کراچی میں صوبہ کے قیام کے حق میں ویلاگ بنانے والے ایک نوجوان کو پرسوں رات اغوا کیا گیا اور اس پر تشدد بھی کیا گیاجبکہ اغوا کاروں نے تشدد کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا جس سے شہر قائد کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور صوبے کے دارالحکومت میں قانون کی عملداری کس حد تک متاثر ہو چکی ہے۔ سینئر صحافی فیصل حسین نے کہا کہ پنجاب سے سندھ آ کر جو لوگ صوبے کے قیام کی تبلیغ کرتے ہیں انہیں اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
فیصل حسین نے کہا کہ اگر بیانیہ کے حامیوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا تو پھر ایسے بیانیے کو پھیلانے کی خواہش بھی ترک کر دینی چاہیے کیونکہ یہ ریاستی تحفظ کے بغیر ممکن نہیں۔
پنجاب سے سندھ میں آکر جو لوگ صوبے کی تبلیغ کرتے ہیں ان کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور جن کے کہنے پر کرتے ہیں ان کو بھی بتادینا چاہیے کہ اگر وہ اپنے بیانیہ کے پرچار کرنے والوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو پھر بیانیہ بنانے کی خواہش بھی زہن سے نکال دیں کیونکہ آپ کے بس کی بات… https://t.co/MYuB8cjCtF
— Faisal Hussain Official (@s_faisalhussain) December 9, 2025
سوشل میڈیا صارفین نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اگر کوئی شخص سندھ میں نئے صوبے کے حوالے سے آئینی طریقے کار کے مطابق بات کرتا ہے تو اسے سندھ کے قوم پرست اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں اور اس تشدد کی ویڈیوز وائرل کر کے لوگوں میں خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اس صورتحال میں ریاست کیوں خاموش ہے؟
کراچی کے حالات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہاں قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہریوں کے مطابق کرمنلز کو کھلی آزادی حاصل ہے اور کسی پر قابو نہیں پایا جاتا۔ ریاستی اداروں کی غیر موجودگی یا غیر فعال رویے نے شہر میں خوف و انتشار کو بڑھا دیا ہے اور لوگ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات میں ریاستی ادارے کس طرح مؤثر کردار ادا کریں گے۔
یہ سندھ علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا ، اتنا سافٹ رویہ کیوں ہے
ان کے بھیانک و خبیث اور انتہا پسند رویہ اور قبیح حرکات ہر سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں کھل کر سامنے آتے ہیں لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کرتا۔
یہ آج تک سمجھ میں آئی 😡— Qadir Khan Yousufzai🕊️ (@qadiryusfzai) December 9, 2025
صحافی قادر خان یوسفزئی نے سوال اٹھایا کہ سندھ میں علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا، ان کے ساتھ اتنا سافٹ رویہ کیوں ہے؟ صارف نے کہا کہ ان کے بھیانک و خبیث اور انتہا پسند رویہ اور قبیح حرکات ہر سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں کھل کر سامنے آتے ہیں لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








