کراچی صوبے کا مطالبہ کرنے والے نوجوان کا اغوا! تشدد کی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا! فیلڈ مارشل سے نوٹس لینے کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

کراچی میں صوبہ کے قیام کے حق میں ویلاگ بنانے والے ایک نوجوان کو پرسوں رات اغوا کیا گیا اور اس پر تشدد بھی کیا گیاجبکہ اغوا کاروں نے تشدد کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا جس سے شہر قائد کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور صوبے کے دارالحکومت میں قانون کی عملداری کس حد تک متاثر ہو چکی ہے۔ سینئر صحافی فیصل حسین نے کہا کہ پنجاب سے سندھ آ کر جو لوگ صوبے کے قیام کی تبلیغ کرتے ہیں انہیں اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔

فیصل حسین نے کہا کہ اگر بیانیہ کے حامیوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا تو پھر ایسے بیانیے کو پھیلانے کی خواہش بھی ترک کر دینی چاہیے کیونکہ یہ ریاستی تحفظ کے بغیر ممکن نہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اگر کوئی شخص سندھ میں نئے صوبے کے حوالے سے آئینی طریقے کار کے مطابق بات کرتا ہے تو اسے سندھ کے قوم پرست اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں اور اس تشدد کی ویڈیوز وائرل کر کے لوگوں میں خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اس صورتحال میں ریاست کیوں خاموش ہے؟

کراچی کے حالات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہاں قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہریوں کے مطابق کرمنلز کو کھلی آزادی حاصل ہے اور کسی پر قابو نہیں پایا جاتا۔ ریاستی اداروں کی غیر موجودگی یا غیر فعال رویے نے شہر میں خوف و انتشار کو بڑھا دیا ہے اور لوگ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات میں ریاستی ادارے کس طرح مؤثر کردار ادا کریں گے۔

صحافی قادر خان یوسفزئی  نے سوال اٹھایا کہ سندھ میں علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا، ان کے ساتھ اتنا سافٹ رویہ کیوں ہے؟ صارف نے کہا کہ ان کے بھیانک و خبیث اور انتہا پسند رویہ اور قبیح حرکات ہر سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں کھل کر سامنے آتے ہیں لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کرتا ہے۔

Related Posts