متنازعہ یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم نانیوالہ کو برطانیہ بدر کیوں کیا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ بھی آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

متنازعہ پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے ویزا درخواست کے دوران اپنے زیر التوا قانونی مقدمات کا ذکر نہیں کیا جو ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

ابتدائی طور پر رجب بٹ اور ان کے ہمراہ یوٹیوبر ندیم نانیوالہ کو برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی نے حراست میں لیا تھا جب ان کے خلاف نامعلوم شکایات موصول ہوئیں کہ وہ دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہیں تاہم تحقیقات میں یہ الزامات غلط ثابت ہوئے مگر اس دوران ان کے امیگریشن دستاویزات کی جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں ان پر زیر التوا مقدمات موجود ہیں جن کا انہوں نے ویزا درخواست میں ذکر نہیں کیا تھا۔

رجب بٹ کے پاکستان میں زیر التوا مقدمات میں توہین مذہب اور سائبر کرائم کے قوانین کے تحت مقدمات شامل ہیں جو ان کے 295 نامی پرفیوم کے لانچ سے متعلق ہیں (یہ نام پاکستان کے آئین کے سیکشن 295 سے متعلق ہے جو مذہبی جرائم کے لیے مخصوص ہے)۔ اس کے علاوہ شادی کے تحفے کے طور پر ایک شیر کے بچے کے غیر قانونی قبضے کا بھی مقدمہ زیر سماعت تھا۔

برطانوی حکومت نے رجب بٹ کو رسمی طور پر خط لکھ کر ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑیں۔ متنازعہ یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم نانیوالہ کے ہمراہ پاکستان واپس پہنچیں گے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل احد کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے جہاں سماعت کے بعد اس حوالے سے جسٹس راجہ انعام امین نے کل اسلام آباد ایئرپورٹ پر انہیں گرفتار نہ کرنے اور ہائیکورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ دونوں ملزمان کے خلاف گیمبلنگ ایپ اور سائبر کرائم سمیت دیگر متعدد مقدمات درج ہیں۔

یاد رہے کہ رجب بٹ کی ملک بدری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیر داخلہ نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کے کاغذات بھی برطانوی ہائی کمشنر کے حوالے کیے اس سے پہلے پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے کہا تھا کہ بیرون ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے فیک نیوز پھیلانے والوں کو تحفظ نہیں ملے گاآپ بہت جلد واپس لائے جائیں گے اور ہر بات کا جواب دینا ہوگا۔

Related Posts