گلگت بلتستان کی خوبصورت وادی ہنزہ میں واقع التِت قلعہ تقریباً گیارہ سو سال پرانا تاریخی اور ثقافتی ورثہ ہے۔ یہ قلعہ ہنزہ کے قصبے آلٹِٹ میں کریم آباد سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اپنی قدیم عمارت، بلند و بالا مقام اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں اور تاریخ کے شوقین افراد کے لیے کشش کا مرکز ہے۔ گلگت بلتستان کا یہ سب سے قدیم زندہ یادگار نہ صرف مقامی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستان کی شمالی پہاڑی تاریخ کا روشن باب بھی ہے۔
تاریخی پس منظر اور اہمیت
التت قلعہ تقریباً گیارہویں صدی عیسوی (900-1100 عیسوی) میں تعمیر کیا گیا۔ مقامی روایات کے مطابق اس قلعے کی بنیاد ہنزہ کے ابتدائی حکمرانوں خاص طور پر شاہریس خان یا ان کے خاندان کے افراد نے رکھی۔ابتدائی طور پر یہ قلعہ ہنزہ کی مقامی قبیلے وائٹ ہنز سے منسلک لوگوں نے تعمیر کیا تھا۔
قلعے کا مرکزی شکاری ٹاور گلگت بلتستان کا قدیم ترین زندہ ڈھانچہ ہے اور دفاعی و رہائشی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہاں سے وادی ہنزہ اور ہنزہ دریا کا مکمل نظارہ ممکن تھا جو اسے دفاعی نقطہ نظر سے بھی اہم بناتا ہے۔
مختلف ادوار میں قلعے کا استعمال
ابتدائی دور (11ویں تا 18ویں صدی): قلعہ ہنزہ کی مقامی بادشاہت کی رہائش اور دفاعی مرکز تھا۔ میر ہنزہ نے اسے رہائشی اور شاہی تقریبات کے لیے استعمال کیا۔

برٹش دور (19ویں صدی): 1891 میں برٹش سلطنت نے ہنزہ پر قبضہ کر کے قلعہ کو فوجی مرکز کے طور پر استعمال کیا۔
20ویں صدی: ہنزہ کے حکمران میر محمد ناظم خان اور جانشینوں نے قلعہ کو دوبارہ استعمال کیا۔ 1945 میں رہائش بالٹِٹ قلعہ منتقل ہوئی جس کے بعد آلٹِٹ قلعہ جزوی طور پر ترک ہو گیا۔
جدید دور (2001 سے اب تک) 2001 میں حکمران خاندان نے قلعے کو آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) کو عطیہ کیا جس نے بحالی کا عمل شروع کیا۔ اب یہ ایک عوامی سیاحتی اور ثقافتی مرکز ہے۔
تعمیراتی خصوصیات
قلعہ پتھر، لکڑی اور مٹی سے بنایا گیا اور مقامی تکنیک کیٹر اور کریبیج (cator–cribbage) کے ذریعے تعمیر کیا گیا تاکہ زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ تکنیک لکڑی کی بیمز اور کراس بیمز کو جوڑ کر ایک لچکدار ڈھانچہ فراہم کرتی ہے، جو زلزلے کی شدت کو جذب کرنے اور دیواروں میں دراڑیں پڑنے سے روکتی ہے۔

اندرونی ڈھانچے میں رہائشی کوارٹرز، گارڈ رومز، مرکزی ٹاور، چھوٹے صحن اور بی بی غوراس مسجد شامل ہیں، جو قلعے کی قدیم رہائشی اور مذہبی زندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ڈھانچہ پہاڑی چٹان پر واقع ہے جو قدرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
بحالی اور ثقافتی احیاء
قلعہ کئی صدیوں تک نظر انداز رہا لیکن 2001 میں آغا خان ٹرسٹ نے بحالی کا کام شروع کیا۔ بحالی 2006-2009 میں مکمل ہوئی اور 2007 میں عوام کے لیے کھولا گیا۔ 2011 میں قلعہ کو یونیسکو ایشیا-پیسیفک ہیریٹیج ایوارڈ سے نوازا گیا، جو عالمی سطح پر اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی تصدیق ہے۔ آج قلعہ ایک میوزیم، خوبصورت باغ اور تاریخی ٹاور کے ساتھ سیاحوں کے لیے کھلا ہے اور مقامی معیشت میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

رواں سال (2025) کی حالت
2025 میں آلٹِٹ قلعہ مکمل طور پر بحال اور محفوظ حالت میں ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی سیاح یہاں آ سکتے ہیں جہاں ٹکٹ ریٹ غیر ملکیوں کے لیے 1650 روپے ہے جس میں مقامی گائیڈ شامل ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام جاری ہے اور یہ وادی ہنزہ کی پرامن سیاحتی میراث کا حصہ ہے۔
اہم تاریخی و ثقافتی حقائق
التت قلعہ گلگت بلتستان کا سب سے قدیم زندہ یادگار ہے۔
قلعے کی تعمیر میں استعمال شدہ مقامی تکنیک اور مواد خطے کی جغرافیائی اور موسمی خصوصیات کے عین مطابق ہیں۔
بحالی کے بعد یہ نہ صرف تاریخی ورثہ محفوظ کر رہا ہے بلکہ مقامی ثقافت، سیاحت اور معیشت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
التت قلعہ صرف ایک پرانا قلعہ نہیں بلکہ شمالی پاکستان کے تاریخی، ثقافتی اور سیاحتی ورثے کا روشن آئینہ ہے۔ گیارہ سو سال کی تاریخ، مختلف ادوار اور موجودہ بہترین حالت کے ساتھ یہ مقامی لوگوں کے لیے فخر کا باعث ہے اور دنیا بھر کے سیاح اور تاریخ کے شوقین اسے دیکھنے آتے ہیں۔ بحالی اور تحفظ کے بعد قلعہ آج ایک زندہ یادگار کے طور پر موجود ہے جو ماضی کی یادوں کو آج کے دور میں زندہ رکھتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کا روشن سبق ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








