ایک نئی جنگ آغاز ہوگیا؟ چینی فائڑز جیٹ کا جاپانی ریڈار سسٹم پر حملہ! ٹوکیو کا سخت ردعمل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

چین اور جاپان کے درمیان تائیوان کے مسئلے پر جاری لفظی کشیدگی اب کھلے آسمان میں خطرناک فوجی تصادم کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ چین کے ایئر کرافٹ کیریئر لیاوننگ سے اڑنے والے دو J-15 جنگی طیاروں نے جاپان کے جنوبی اوکیناوا جزائر کے قریب جاپانی فضائیہ کے گشت کرنے والے طیاروں پر فائر کنٹرول ریڈار لاک کر دیا یعنی وہ چند لمحوں میں میزائل فائر کر سکتے تھے۔

یہ واقعہ گزشتہ روز دو بار پیش آیا پہلی بار شام ساڑھے چار بجے اور دوسری بار شام ساڑھے چھ بجے کے قریب۔ جاپان کی وزارت دفاع نے اسے انتہائی سنگین اور خطرناک عمل قرار دیا اور فوری طور پر اپنے F-15 اور F-2 جنگی طیارے الرٹ کر دیئے تاہم خوش قسمتی سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی اور نقصان بھی نہیں ہوا لیکن جاپانی حکام کے مطابق یہ ریڈار لاک ممکنہ فوجی حملے کی تیاری کے مترادف تھا۔

جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے رات گئے ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ ہم نے چین سے شدید احتجاج کیا ہے اور ایسی کارروائیوں کی فوری روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم پرسکون ضرور ہیں لیکن کمزور ہرگز نہیں۔

چین کی وزارت دفاع نے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ایک پہلے سے اعلان شدہ فوجی مشق کے دوران پیش آیا اور جاپانی طیاروں نے چینی بحری بیڑے کو قریب سے ہراساں کیا اس لیے ریڈار لاک صرف معمول کی شناخت اور وارننگ تھا۔ بیجنگ نے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ اشتعال انگیز پروازیں فوراً بند کرے۔

یہ کشیدگی گزشتہ ایک ماہ سے جاری لفظی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے جس کا آغاز جاپان کی نئی وزیراعظم کے بیان کے بعد ہوا تھا کہ تائیوان پر چینی حملہ جاپان کے لیے براہ راست خطرہ ہوگا اور جاپان خود دفاع کے دائرے میں تائیوان کی مدد کر سکتا ہے جبکہ چین نے اس کے جواب میں متعدد سفارتی، معاشی اور ثقافتی اقدامات کیے۔

چینی شہریوں کے جاپان سفر پر پابندی،

جاپانی سمندری غذا کی درآمد پر مکمل روک،

جاپانی فلموں اور اینیمی کی ریلیز معطل،

جاپانی گلوکاروں کے کنسرٹ روک دئیے گئے،

متنازعہ سینکاکو/دیاؤیو جزائر کے نزدیک چینی کوسٹ گارڈ کی مسلسل موجودگی۔

اب ریڈار لاک کے واقعہ نے صورتحال کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ جاپان یوناگونی جزیرے (تائیوان سے صرف 110 کلومیٹر دور) پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے جسے چین پہلے ہی جنگی اعلان قرار دے چکا ہے۔

ماہرین دفاع کے مطابق فائر کنٹرول ریڈار لاک عموماً آخری حملے سے چند سیکنڈ پہلے کیا جاتا ہے اور اگر جاپانی پائلٹس نے اچانک موڑ نہ لیا ہوتا تو صورتحال کنٹرول سے باہر ہوسکتی تھی۔

یاد رہے کہ تجارت کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی تجارت، لاکھوں چینی سیاح اور طلبہ موجود ہیں مگر سیاسی اور فوجی کشیدگی اب عام شہریوں کی زندگی، کاروبار اور ثقافتی تبادلے تک بھی پہنچ چکی ہے۔

دونوں فریق پرسکون مگر سخت موقف پر قائم ہیں لیکن ایک چھوٹی سی غلطی یا غلط فہمی بھی بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔ جاپان نے امریکی اتحادیوں سے مشاورت شروع کر دی ہے جبکہ چین اپنے بحری بیڑے کو مسلسل مشرقی چین سمندر میں تعینات رکھے ہوئے ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی امن اب ایک دھاگے سے لٹکا ہوا نظر آ رہا ہے اور کسی بھی لمحے خطرناک کشیدگی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

Related Posts