محمد اقبال جادو ٹونے میں ملوث ہے؟ جانیں گلشن سے 3 خواتین کی لاشیں برآمدگی کیس کے پراسرار انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

کراچی کے معروف علاقے گلشن اقبال بلاک ون میں ایک رہائشی فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشوں کے برآمد ہونے والے پراسرار کیس میں پولیس کی تفتیش نے اہم موڑ لے لیا ہے۔ ابتدائی طور پر گیس لیک کا شبہ ہونے والے اس واقعے میں اب قرضوں سے تنگ خاندان کے سربراہ اور اس کے بیٹے کو مرکزی ملزم قرار دے دیا گیا ہے جو سنگین مالی دباؤ کی وجہ سے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔

تفتیشی افسران نے بتایا کہ گھر کا مالک محمد اقبال اور اس کا 30 سالہ بیٹا یاسین واردات کے اہم کردار نکلے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر 75 لاکھ روپے کے قرض سے نجات پانے کے لیے تینوں خواتین کو زہریلا مشروب (جوس) پلایا جس سے ان کی فوری موت ہو گئی۔ واقعے کے بعد یاسین نے خود بھی زہر پینے کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے اور فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیئے گئے تاہم باپ محمد اقبال کی ہمت جواب دے گئی اور وہ زہر نہ پی سکا۔

پولیس نے محمد اقبال کے پاس سے ایک مشکوک خط بھی برآمد کیا ہے جس کی تحریر اور مواد کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ یہ خط واقعے کی منصوبہ بندی یا مالی مسائل کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بھی پتا چلا کہ خاندان پر کل ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ تھا۔ ملزمان کے استعمال میں رہائشی فلیٹ اور ایک گاڑی کرائے کی تھی جبکہ گھر میں موجود دوسری گاڑی بینک کی لیز پر حاصل کی گئی تھی۔

مزید تفصیلات کے مطابق یاسین پراپرٹی ایجنٹ کا کام کرتا تھا اور اس کی اہلیہ 22 سالہ ماہا (بہو) کو سب سے پہلے زہر دیا گیا جس کی لاش کمرے میں چھپا دی تاکہ واقعہ چھپایا جا سکے۔ پولیس نے 75 لاکھ روپے کے قرض پر ایک شکایت بھی درج کی ہے جو ملزمان کی مالی حالت کو مزید واضح کرتی ہے۔ ابتدائی طور پر گھر کے سربراہ محمد اقبال نے پولیس کو 15 ہیلپ لائن پر کال کر کے گیس لیک کی اطلاع دی تھی مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوا کہ کم از کم ایک خاتون کی لاش دو دن پرانی تھی جو ان کی ابتدائی کہانی کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔

پولیس سرجن نے اس کیس کو انتہائی پیچیدہ قرار دیا ہے کیونکہ یاسین کے خون میں بھی زہریلی عناصر کی موجودگی پائی گئی ہے جو خواتین کی ہلاکت کی وجہ کو مزید واضح کرے گی۔ تفتیش کے دوران محمد اقبال پر جادو ٹونے کے کاموں میں ملوث ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا جس کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ ہلاک شدگان میں 52 سالہ ثمینہ (ماں) اس کی 19 سالہ بیٹی ثمرین اور 22 سالہ بہو ماہا شامل ہیں جو آپس میں قریبی رشتہ دار تھیں۔ خاندان حال ہی میں رینچھور لائن سے گلشن اقبال منتقل ہوا تھا۔

پولیس نے دونوں ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے اور فلیٹ سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور فارنزک تجزیہ کا انتظار ہے۔ ایس ایس پی ضلع شرقی زبیر نذیر شیخ نے بتایا کہ تینوں لاشوں پر تشدد کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے، جو زہر کی وجہ سے ہلاکت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

یہ واقعہ تین روز قبل پیش آیا تھا جب محمد اقبال نے اپنی بہن زرینہ کو فون کر کے اموات کی خبر دی جس کے بعد رشتہ داروں نے پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس ٹیمیں ہر ممکن زاویے سے کیس کی تفتیش کر رہی ہیں تاکہ مکمل سچ سامنے آ سکے۔

نوٹ؛ یہ نیوز رپورٹ دستیاب تفتیشی تفصیلات پر مبنی ہے اور حتمی رپورٹس آنے تک مزید انکشافات ممکن ہیں۔

Related Posts