گزشتہ ہفتے بہیمانہ طریقے سے قتل کی جانے والی ڈاکٹر وردہ کے کیس میں سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، مرکزی ملزمہ ردا نے ڈاکٹر کے قتل کا سودا ایک کروڑ روپے میں کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایبٹ آباد پولیس نے ڈاکٹر وردہ کے اغوا اور قتل میں استعمال ہونے والی دونوں گاڑیاں ریکور کر لیں۔ پولیس نے انکشاف کیا کہ مرکزی ملزمہ ردا نے وردہ کے قتل کا سودا ایک کروڑ روپے میں کیا تھا۔
تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ڈاکٹر وردہ کے زیورات بینک میں جمع ہیں، جن پر 50 لاکھ روپے کا قرض لیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمہ ردا جدون کے خاندان کی پانچ دکانیں بھی سیل کر دی ہیں۔
گزشتہ روز جاری ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی موت دم گھٹنے سے ہوئی جبکہ گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل انتہائی تشدد سے کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد کی بنیاد پر دیگر ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
ڈاکٹر وردہ کے دیور نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے غفلت برتی، اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو ڈاکٹر وردہ کی جان بچ سکتی تھی۔ اہلخانہ کا موقف ہے کہ قتل سے پہلے ملزمان کا رویہ مشکوک تھا، جسے پولیس نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








