امریکی شہریت کا نیا شارٹ کٹ طریقہ؟ جانیں ٹرمپ گولڈ کارڈ امیگریشن اسکیم کیا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ گولڈ کارڈ نامی نئی امیگریشن اسکیم کا باضابطہ آغاز کیا جس کا مقصد دولت مند غیر ملکی شہریوں کے لیے امریکہ میں تیز رفتار مستقل رہائش اور مستقبل میں شہریت حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرنا ہے۔

گولڈ کارڈ ویزا کیا ہے؟

یہ نیا ویزا پروگرام روایتی گرین کارڈ کے مقابلے میں ایک مالیاتی بنیاد پر خصوصی راستہ پیش کرتا ہے۔ اس کے تحت غیر امریکی شہری کم از کم 1,000,000 امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری یا تعاون کے ذریعے امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔ ویزا کی درخواست کیلئے پہلے 15,000 ڈالر کی پراسیسنگ فیس ادا کرنا ضروری ہے۔

پس منظر کی جانچ اور سیکیورٹی چیک لازمی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ گولڈ کارڈ ایک خاص اور طاقتور رہائشی کارڈ ہوگا جو قانونی طور پر امریکہ میں رہائش، کام کرنے اور بعد میں شہریت کے مواقع فراہم کرے گا۔

گولڈ کارڈ کی اہم خصوصیات

فرد کے لیے: $1,000,000 سرمایہ کاری

کمپنیوں کے لیے (ملازمین کے لیے): $2,000,000 سرمایہ کاری

ویزے کی پراسیسنگ فیس: $15,000

پس منظر اور سیکیورٹی چیک کے بعد گرین کارڈ جیسی رہائش

مستقبل میں شہریت حاصل کرنے کا راستہ محفوظ

یہ اسکیم روایتی EB-5 سرمایہ کاری ویزا پروگرام کی جگہ لے گی جس میں پہلے نوکریوں کی تخلیق اور دیگر شرائط شامل تھیں۔

حکومت کا موقف اور مقصد

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے امریکہ عالمی سرمایہ کاروں اور باصلاحیت افراد کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے جس سے ملکی معیشت مضبوط ہوگی اور ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اس اقدام کو کئی امریکی بزنس لیڈرز کی حمایت حاصل ہے۔

ردعمل اور تنقید

اگرچہ اسکیم کو کچھ حلقوں نے معیشت کے لیے مفید قرار دیا ہے ماہرین نے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں کہ یہ پروگرام صرف امیر افراد کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔امیگریشن کے اصل اصولوں سے ہٹ کر املاک کی بنیاد پر رہائش کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

Related Posts