امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں ہیوی ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور ظالمانہ ای چالان کے خلاف آئی جی آفس پر عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کل بروز ہفتہ 13 دسمبر شام 5 بجے نمائش چورنگی پر زبردست احتجاجی دھرنا اور آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔
منعم ظفر نے کہا کہ کراچی کے ستائے ہوئے عوام بڑی تعداد میں دھرنے میں شریک ہوں اور حق دو کراچی تحریک کا حصہ بنیں۔کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے جائز حقوق کے حصول اور شہر کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور تحریک اور مزاحمت جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ای چالان کے غیر شفاف اور عوام دشمن نظام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ سندھ حکومت بتائے کہ امل عمر ایکٹ کے تحت کتنے زخمیوں کا علاج کرایا گیا ہے؟ شہر بھر میں جگہ جگہ ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر اور تباہ حال انفرااسٹرکچر عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی نااہلی اور کرپشن کی سزا اہل کراچی بھگت رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ای چالان کے لیے تو انتہائی سرگرم ہے مگر جرائم کی روک تھام میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، ڈی آئی جی ٹریفک بتائیں کہ شہر میں کتنی سڑکوں پر درست سگنلز اور زیبرا کراسنگ موجود ہیں؟ اگر سگنل اور سڑکوں کے مسائل موٹر سائیکل سوار کے چالان سے حل ہونے ہیں تو پھر ٹریفک پولیس کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی مجرمانہ بے حسی نے کراچی کے عوام کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ فارم 47 کے ذریعے کراچی پر مسلط ایم این ایز و ایم پی ایز اور قابض میئر نے بھی عوامی مسائل کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 11 ماہ میں 41 ہزار موٹر سائیکلیں اور 16 ہزار موبائل فون چھین لیے گئے، مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں 84 شہری جبکہ ہیوی ٹریفک سے 244 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے۔ یہ کیسی حکمرانی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کھلے عام دندناتے پھریں اور شہریوں پر کیمروں کے ذریعے بھاری جرمانے عاید کیے جائیں؟
ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی ٹریفک بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہیوی ٹریفک پر ٹریکرز اور سینسرز نصب کیے جائیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ اب تک ہونے والے 250 سے زاید حادثات میں کتنے ڈمپرز یا ٹینکرز پر یہ نظام موجود تھا؟
انہوں نے کہاکہ کراچی میں 40 لاکھ سے زاید موٹرسائیکلیں ہیں، ایک طرف سندھ حکومت شہریوں کو ٹرانسپورٹیشن کا نظام دینے میں مکمل ناکام ہے جبکہ دوسری طرف کراچی کے عوام کو خونی ڈمپر، ٹینکر اور ہیوی گاڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا شہر نہیں جہاں ڈمپر اور ٹرالر انسانوں کو روند کر فرار ہوجائیں۔
عوامی پریس کانفرنس میں نائب امیر کراچی مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمدبھی موجود تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








