وسطی امریکا کے ملک ہنڈوراس میں ایک ایسا حیران کن واقعہ پیش آیا جس نے دنیا بھر میں اسے ’’دلچسپ و عجیب‘‘ کی مثال بنا دیا۔ یہاں دریائے چولوٹی پر ایک مضبوط اور خوبصورت پل کئی سال کی محنت سے تعمیر کیا گیا تھا، مگر قدرت کے ایک غیر معمولی عمل نے پل کی کہانی ہی بدل دی۔
1998 میں آنے والے تباہ کن طوفان ’’مِچ‘‘ نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ بارشوں اور سیلاب نے نہ صرف آبادیوں کو متاثر کیا بلکہ دریائے چولوٹی کو بھی ایسا جھٹکا لگا کہ اس نے اپنا رخ بدل لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پل اپنی جگہ سلامت رہا، مگر دریا اس کے نیچے سے گزرنے کے بجائے ایک نئے راستے پر بہنے لگا۔
یوں کروڑوں کی لاگت سے دو سال میں تیار ہونے والا یہ عظیم الشان پل آج پانی کے بیچ نہیں بلکہ خشک زمین کے عین درمیان تنہا کھڑا نظر آتا ہے۔ دنیا اسے ’’پل جو کہیں نہیں جاتا‘‘ (Bridge to Nowhere) کے نام سے جانتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پل نہ ٹوٹا، نہ کمزور ہوا، بلکہ قدرت نے اس کے نیچے سے دریا ہی ہٹا دیا۔ بہت سے لوگ اس عجیب واقعے کو قسمت، محنت اور حالات کی بے ثباتی کی علامت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ ہنڈوراس کا یہ پل آج بھی سیاحوں کے لیے تجسس اور حیرت کا باعث ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








