آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے علاقے بونڈی بیچ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعے کے دوران ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایک عام شہری نے خطرے کے باوجود مسلح حملہ آور کا سامنا کیا جبکہ اس لمحے پولیس موقع پر موجود نہیں تھی۔
عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق فائرنگ اور افراتفری کے عالم میں ایک شخص نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی اور لوگوں کو بچانے کے لیے آگے بڑھا۔ اس دوران ساحل پر موجود افراد شدید خوف و ہراس کا شکار نظر آئے اور کئی لوگ جان بچانے کے لیے بھاگتے دکھائی دئیے۔
سوئیڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعاتی تحقیق کے پروفیسر اشوک سوائن نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جب آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر مسلمان دہشت گرد یہودیوں کو قتل کر رہے تھے اُس وقت ایک مسلمان شخص نے دہشتگرد کا سامنا کیا جبکہ پولیس موقع پر موجود نہیں تھی۔
While Muslim terrorists were killing Jews at Bondi Beach in Australia, a Muslim man confronted the terrorist while police was missing. pic.twitter.com/heDNeK7q79
— Ashok Swain (@ashoswai) December 14, 2025
حنانیا نفطالی نامی اسرائیلی دانشور نے انسٹا گرام اکاؤنٹ احمد ال احمد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں ایک حقیقی ہیرو قرار دیا۔
حنانیا نفطالی نے کہا کہ احمد ال احمد 43 سالہ شخص جو دو بچوں کے والد ہیں نے بونڈی بیچ میں ہانوکا حملے کے دوران دہشت گردوں کا سامنا کیا۔ ایک مسلمان جس نے یہودیوں کی جان بچائی۔اس نے قاتل کو روکنے کے لیے اپنی ہر چیز داؤ پر لگائی اور اس دوران خود بھی گولی لگی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اس شہری کے اقدام کو جرات اور انسانیت کی مثال قرار دیا جا رہا ہے، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ممکنہ طور پر کئی زندگیاں بچائیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حملے کے محرکات، ملزمان کی شناخت اور پس منظر سے متعلق تفصیلات سرکاری تفتیش کے بعد ہی واضح کی جائیں گی۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ دعووں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے آنے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








