بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی کشیدگی کے بعد رافیل جنگی طیاروں سے متعلق دعوؤں نے عالمی دفاعی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ برطانوی دفاعی جریدے کی ایرو میں شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ میں پاکستانی فضائیہ کے موقف اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
کی ایرو کی خصوصی رپورٹ
Key Aero میگزین میں 19 ستمبر 2025 کو شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ جس کا عنوان Understanding the Rafale Kills ہے میں مئی 2025 کے مبینہ پاک بھارت تنازع کے دوران پاکستانی فضائیہ کے دعوؤں کا جائزہ پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی طیاروں نے بھارتی فضائیہ کے فارمیشنز پر اچانک کارروائی کرتے ہوئے چھ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں چار رافیل طیارے شامل تھے۔ دعوے میں ان طیاروں کے ٹیل نمبر BS001، BS021، BS022 اور BS027 بھی بتائے گئے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی چینی ساختہ J-10 طیاروں اور PL-15 میزائلوں کے ذریعے کی گئی۔
عالمی دفاعی منڈی پر اثرات
Key Aero کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ دعوے درست مانے جائیں تو اس واقعے کے اثرات عالمی دفاعی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں خاص طور پر مغربی اور فرانسیسی ہتھیاروں کے مقابلے میں چینی دفاعی سازوسامان کی ساکھ کے حوالے سے۔
ڈسالٹ ایوی ایشن کا ردِعمل
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن نے ابتدائی طور پر اس معاملے پر خاموشی اختیار کی تاہم بعد میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ رافیل طیاروں کو کسی جنگی کارروائی میں مار گرانے کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ ایک طیارے کے نقصان کو تکنیکی خرابی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔
غلط معلومات کی مہم کے الزامات
Key Aero سے منسلک فورمز اور دیگر ذرائع میں شائع رپورٹس کے مطابق ایک امریکی کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چین نے اس تنازع کے بعد رافیل طیاروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے غلط معلومات کی مہم چلائی جس کا مقصد عالمی سطح پر اس طیارے کی فروخت کو متاثر کرنا تھا۔
بھارتی اور فرانسیسی حکام کا مؤقف
بھارتی حکام فرانسیسی بحریہ اور ڈسالٹ ایوی ایشن تینوں نے رافیل طیاروں کے بڑے پیمانے پر جنگی نقصان کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ ان اداروں کے مطابق اس حوالے سے پیش کی جانے والی معلومات غیر مصدقہ ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








