کراچی کے اہم تجارتی و صنعتی علاقے ماڑی پور میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے ٹریفک کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ حکام کی عدم موجودگی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی دس روزہ ملک گیر ہڑتال کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں بھاری گاڑیاں ایک ساتھ سڑکوں پر آ گئیں جس کے نتیجے میں ماڑی پور روڈ پر گزشتہ تقریباً 15 گھنٹوں سے ٹریفک مکمل طور پر درہم برہم ہے۔گلبائی تک سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سیکڑوں کی تعداد میں ٹریلرز، ٹرک اور دیگر ہیوی گاڑیاں مرکزی شاہراہ پر کھڑی ہیں جس کے باعث نہ صرف عام شہری پریشان ہیں بلکہ تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی گھنٹوں تک ٹریفک پولیس کے اہلکار موقع پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان کا کہنا ہے کہ طویل وقت گزرنے کے باوجود ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تاہم رینجرز کے اہلکاروں نے ٹریفک کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں جس سے صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ملک بھر میں جاری ہڑتال ختم کر دی گئی تھی۔ وفاقی اور سندھ حکومت کے نمائندوں نے دوسرے روز بھی الائنس کی قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں مطالبات پر اتفاق کیا گیا۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اسی بنیاد پر ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو دوبارہ ملک گیر ہڑتال کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بھاری ٹریفک کے چالان اور ٹریفک پولیس کے مبینہ نامناسب رویے کے خلاف آٹھ دسمبر سے گڈز ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال شروع کی تھی جس کے باعث کراچی بندرگاہ پر کام بری طرح متاثر ہوا اور جہازوں کی آمد و رفت معطل رہی۔ کسٹمز ہاؤس سمیت مختلف مقامات پر طویل مذاکرات کے بعد معاملات طے پائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








