بھارتی ریاست اتر پردیش کے شاملی ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر برقعہ پہننے کے معاملے پر اپنی بیوی اور دو کمسن بیٹیوں کو قتل کر کے ان کی نعشیں گھر کے زیر زمین ٹینک میں دفن کر دی۔
پولیس کے مطابق ملزم فاروق نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بیوی طاہرہ اور بڑی بیٹی آفرین (16) کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ چھوٹی بیٹی 14 سالہ شرین کو گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ بعد ازاں تینوں کی لاشیں گھر کے صحن میں پہلے سے کھودے گئے زیر زمین ٹینک میں دفن کر دی گئیں۔
پولیس نے منگل کی شام کارروائی کرتے ہوئے زیر زمین ٹینک کھود کر تینوں لاشیں برآمد کر لیں اور انہیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا جبکہ ملزم کو حراست میں لے کر مزید تفتیش جاری ہے۔
ملزم فاروق جو گڑھی دولت گاؤں کا رہائشی ہے ایک ہوٹل میں روٹی بنانے کا کام کرتا تھا اور اپنے والد اور بھائیوں سے الگ رہتا تھا۔ اس کے پانچ بچے تھے جن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ فاروق کی بیوی طاہرہ اور بیٹیاں افرین اور شرین گزشتہ 10 دنوں سے لاپتہ تھیں جس پر فاروق کے والد داؤد نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔
پولیس کے مطابق فاروق اپنی بیوی اور بیٹیوں سے برقعہ پہننے پر زور دیتا تھا جبکہ طاہرہ اس بات پر راضی نہیں تھی جس کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ فاروق نے بتایا کہ وہ اپنی سماجی بدنامی سمجھ کر اور غصے میں آ کر قتل کا منصوبہ بنایا۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے غیر قانونی پستول اور کارتوس خریدے، زیر زمین ٹینک کھدوا لیا اور 8 دسمبر کی رات چائے کے بہانے اپنی بیوی طاہرہ کو جگا کر گولی مار دی۔ گولی کی آواز سن کر دونوں بیٹیاں جاگ گئیں جن میں سے 16 سالہ آفرین کو بھی گولی مار دی گئی اور شرین کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔
پولیس حکام نے ملزم فاروق کے اعتراف کے بعد مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی تیز کر دی ہے اور ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








