صرف نقاب ہی تو اتارا اگر کہیں اور ہاتھ لگا لیتا تو؟ مودی کے وزیروں کی شرمناک سوچ بے نقاب، ویڈیوز دیکھیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

بھارتی ریاست اتر پردیش کے فشری کے وزیر سنجے نشاد نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک مسلم خاتون کے حجاب کھینچنے کے واقعے پر نہ صرف دفاع کیا بلکہ حیران کن اور توہین آمیز تبصرہ بھی کر دیا جس سے بھارت میں مسلمانوں اور حقوقِ نسواں کی تنظیموں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر سنجے نشاد نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون کا سرِ عام حجاب کھینچنے کے واقعے پر میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک انتہائی بے ہودہ اور توہین آمیز تبصرہ کیا۔ سنجے نشاد نے کہاکہ یہ سب شور کس بات کا ہے؟ اگر ہاتھ کہیں اور لگتا تو پھر کیا ہوتا؟ اس دوران وہ اور صحافی دونوں ہنسنے لگے گویا اس سنسنی خیز واقعے کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ ناقدین نے کہا کہ یہ بیان کھلے عام خواتین پر نفرت، جنسی ہراسانی اور نفسیاتی ظلم کا مظہر ہے اور مسلم خواتین کو مزید حاشیے پر لے جا رہا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے بھی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے متنازع بیان دے دیا جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہا کہ نتیش کمار نے کوئی غلط کام نہیں کیا کیونکہ بھارت کوئی اسلامی ملک نہیں ہے اور ان کے مطابق روزگار کا لیٹر وصول کرتے وقت چہرہ چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

مرکزی وزیر کے بیان کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کسی ایک مذہب کا ملک نہیں بلکہ ایک آئینی جمہوری ریاست ہے جہاں ہر شہری کو مذہبی آزادی اور ذاتی انتخاب کا حق حاصل ہے۔

سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے کہا ہے کہ کسی عورت کو عوامی مقام پر مجبور کرنا، شرمندہ کرنا یا ذلیل کرنا ہر صورت غلط ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقے سے ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکولرازم کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی طاقت کسی فرد کے مذہبی عقیدے یا لباس کی نگرانی نہ کرے۔

ناقدین نے حکومت اور سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ آئین کا احترام کیا جائے، خواتین کے وقار اور آزادی کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور قوم پرستی کے نام پر عوامی تذلیل کو معمول نہ بنایا جائے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر کا یہ رویہ نہ صرف بہار میں حجاب کھینچنے کے واقعے پر کوئی معافی یا افسوس ظاہر کرنے کے بجائے اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقریر کو معمول بناتا ہے۔ اب عوامی سطح پر سنجے نشاد کی استعفیٰ اور قانونی کارروائی کے مطالبات زور پکڑ چکے ہیں اور اسے خواتین کی عزت و جسمانی خودمختاری پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Related Posts