پاکستان میں ایک معمولی سرکاری ملازمت کے لیے بھی امیدوار کو اپنی تعلیمی اسناد ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تصدیق کروانا لازم ہوتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہائی کورٹ کے جج جیسے انتہائی حساس اور طاقتور منصب پر تعیناتی سے قبل یہی اصول لاگو نہیں ہوتے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی نااہلی نے نہ صرف عدالتی نظام بلکہ تقرری کے پورے عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں کام سے روک دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ ان کی ایل ایل بی ڈگری کے مبینہ طور پر جعلی ہونے کے معاملے پر سنایا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت جسٹس طارق جہانگیری جج بننے کے لیے مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے کیونکہ تعیناتی کے وقت ان کی ایل ایل بی ڈگری درست نہیں تھی لہٰذا ان کی بطور جج تعیناتی ابتدا ہی سے غیر قانونی تھی۔ عدالت نے وزارت قانون کو ہدایت دی ہے کہ انہیں ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی ڈگری درست نہیں تھی تو پھر جوڈیشل کمیشن، وزارت قانون، متعلقہ ادارے اور ایچ ای سی نے تعیناتی سے قبل تصدیق کیوں نہیں کی؟ اگر ایک نااہل شخص برسوں تک اعلیٰ ترین عدالتی منصب پر فائز رہا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
جسٹس طارق محمود جہانگیری 28 دسمبر 2020 کو پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔ اس وقت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سربراہ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد تھے۔ ان کی پروفائل کے مطابق انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے اسلامیہ لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تھی۔
جسٹس جہانگیری مختلف ادوار میں اہم سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ فوجداری معاملات میں مہارت رکھنے والے جسٹس جہانگیری سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ریفرنس میں ان کے وکیل بھی رہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بننے کے بعد وہ کئی حساس اور اہم مقدمات سننے والے بینچوں کا حصہ رہے۔ انہوں نے اس تین رکنی بینچ کی سربراہی بھی کی جس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ بیٹی ٹیریان سے متعلق درخواست کو خارج کیا۔ اس سے قبل یہ درخواست محفوظ ہونے کے باوجود سنائی نہیں گئی تھی اور بعد میں دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔
مزید برآں 2023 میں جسٹس جہانگیری اس وقت خبروں کی زینت بنے جب انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان مقدمات میں بھی بلینکٹ پروٹیکشن فراہم کی جن میں اس وقت تک ایف آئی آرز بھی درج نہیں ہوئی تھیں۔
اب ایک اور سنگین سوال یہ ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی نااہلی کے بعد ان کے دورانِ منصب دیے گئے فیصلوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ فیصلے برقرار رہیں گے یا انہیں چیلنج کیا جا سکے گا؟ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ عدالتی نظام کے لیے ایک آئینی اور قانونی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہ کیس محض ایک جج کی نااہلی کا نہیں بلکہ پورے نظامِ تقرری، نگرانی اور احتساب کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگر اعلیٰ ترین عدالتی منصب پر فائز ہونے والا شخص بھی اہلیت کے بنیادی معیار پر پورا نہ اترتا ہو تو عام شہری کے اعتماد پر اس کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








