شام: داعش کے 70ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے، کتنا جانی نقصان ہوا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

داعش
(فوٹو: دی پرنٹ)

شام میں دولتِ اسلامیہ کہلانے والی دہشت گرد تنظیم داعش کے 70 ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے جاری ہیں جبکہ یہ کارروائی گزشتہ ہفتے امریکی فوجی اہلکاروں پر کیے گئے حملے کے جواب میں ہورہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی فوج کو 13دسمبر کو وسطی شام کے علاقے پالمیرا میں نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اور اتحادی افواج پر حملے کی کارروائی کے جواب میں امریکی فضائی حملوں میں داعش کے دہشت گردوں، ان کے 70 سے زائد ٹھکانوں اور ہتھیاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کسی نئی جنگ کی ابتدا نہیں بلکہ امریکی فوجیوں پر حملے کا جواب ہے۔ اگر دنیا میں کہیں بھی امریکیوں کو نشانہ بنایا جائے گا تو امریکا حملہ آوروں کا شکار کرکے انہیں ختم کرے گا۔ امریکی فوج پہلے ہی اپنے دشمن ختم کرچکی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

شام کے وسطی علاقے میں کیا گیا فضائی حملہ داعش سے منسلک درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔ امریکی حکام نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ آپریشن انتہائی درست اور جامع رہا۔ داعش نے گزشتہ ہفتے کے روز بڑا حملہ کرکے 2 امریکی فوجیوں اور ایک مقامی مترجم کی جان لے لی تھی۔

عالمی میڈیا نے تصدیق کی کہ حملہ آور شامی سکیورٹی فورسز کا رکن تھا جو حال ہی میں فوج میں شامل ہوا تھا جس پر داعش سے تعلق کا شبہ تھا۔ یہ واقعہ امریکی حکومت کو سخت پیغام دینے پر مجبور کرگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر نے اس واقعے کی سخت مذمت کی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شام میں داعش نے امریکی فوجیوں کو وحشیانہ انداز میں قتل کیا، جوابی کارروائی شروع ہوگئی ہے اور شہید فوجیوں کو پورے اعزاز کے ساتھ وطن واپس لانے کے بعد انہی کے اعزاز میں انتقامی حملہ بھی کیا جارہا ہے۔ امریکا داعش کے ٹھکانوں پر شدید حملے کررہا ہے۔ داعش کا مکمل خاتمہ شام کا مستقبل بہتر کرے گا۔ شامی حکومت بھی آپریشن کے حق میں ہے۔

شام میں داعش کو نشانہ بنانے والے امریکی فضائی حملوں کے متعلق سرکاری اعدادوشمار تاحال جاری نہیں کیے گئے۔ امریکی میڈیا نے حملوں کی کامیابی کی اطلاع دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ داعش کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے دہشت گرد یا عام شہری ان حملوں کا نشانہ بنے۔ کچھ رپورٹس میں ایک داعش رہنما ابو یوسف کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، تاہم مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد سامنے نہیں آئی۔

Related Posts