بھارت کی نریندر مودی حکومت نے منریگا ختم کرکے متنازعہ بی بی جی رام جی بل منظور کرلیا جس کے خلاف کانگریس نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا ہے، کانگریسی لیڈروں کا ماننا ہے کہ مودی حکومت نے منریگا ختم نہیں کیا بلکہ روزگار کی ضمانت کے حق کو احسان میں بدل دیا ہے۔
مہاتما گاندھی نیشل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم جسے مختصراً منریگا کہا جاتا ہے، مودی حکومت نے عملی طور پر ختم کردیا جس کے خلاف کانگریس نے ملک گیر احتجاج شروع کردیا جس کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہے جبکہ نریندر مودی کی عوام دشمن حکومت نے تمام ترتوجہ پیسے بچانے پر مرکوز کر رکھی ہے۔
کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ ہم ملک گیر احتجاج کیلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے تحت 27دسمبر کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں جبکہ کانگریسی جنرل سیکریٹری کے سی وینو گوپال نے اتوار کے روز کہا کہ مودی حکومت نے منریگا عملی طور پر ختم کردیاجو کہ کام کرنے کا ایک قانونی حق تھا۔
جنرل سیکریٹری کانگریس نے کہا کہ منریگا کوئی فلاحی اسکیم نہیں تھی جسے بی جے پی نے بجٹ پر منحصر اسکیم بنا دای ہے جس کے نتیجے میں کروڑوں دیہی خاندانوں کو عدم تحفظ اور پریشانی کا سامنا ہے اور اسی کے خلاف کانگریس ملک بھر کے ضلع ہیڈ کوارٹرز میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے۔ ہم مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
کانگریس رہنما کے سی وینو گوپال نے کہا کہ مودی حکومت نے مزدوروں کی روزی روٹی اور وقار پرحملہ کیا ہے۔ 27دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں کام کے حق پر اس سنگین حملے پر بحث کی جائے گی۔ اس مسئلے پر سینئر قیادت غور کرکے آئندہ کے لائحہ عمل اور کارروائی کا اعلان کرے گی۔ اس اجلا س کے اگلے روز کانگریس کا یوم تاسیس ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یوم تاسیس پر کانگریس کارنان ملک بھر میں مہاتما گاندھی کی تصویر لے کر پروگرام منعقد کریں گے اور نظریات، انصاف اور شہریوں کے کام کرنے کے حق میں بھارتی آئین کے وعدے سے اپنی وابستگی کا اعلان کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








