طارق محمود جہانگیری سپریم کورٹ گئے تو وہاں بھی جاؤں گا۔میاں داؤد ایڈووکیٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

طارق محمود جہانگیری
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج طارق محمود جہانگیری پر جعلی ڈگری کا الزام عائد کرکے کیس دائر کرنے والے معروف وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اگر طارق محمود جہانگیری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو جعلی ڈگری کیس میں وہاں بھی جاؤں گا۔

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ جعلی ڈگری کیس میرے سامنے اس وقت آیا جب ایک اخبار میں طارق جہانگیری کی جعلی ڈگری پر خبر شائع ہوئی اور پھر میں نے بطور وکیل اس خبر کی بنیاد پر کیس دائر کیا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ آگیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان کی 2 رکنی بینچ کے دائرہ اختیار پر اعتراض اور فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم بھی دے دیا تھا۔

میاں داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ طارق جہانگیری کی ڈگری کی تصدیق پہلی بار ہوئی، اس سے قبل وہ اپنی ڈگری کی تصدیق کرواتے ہی نہیں تھے اور ایچ ای سی نے اس کیس میں اپنے مؤقف میں بتایا ہے کہ طارق محمود جہانگیری کی کوئی بھی ڈگری ہائر ایجوکیشن کمیشن شے تصدیق شدہ نہیں۔

داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی پارٹ ون اور پارٹ ٹو کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ ڈگریوں کے عوض ملنے والے عہدے غیر قانونی تھے۔ میں نے یہ کیس عوامی مفاد میں دائر کیا تھا، اس کیس کیلئے کوئی فیس نہیں لی۔ سپریم جوڈیشل کمیشن ججز کی ڈگریوں کی تصدیق کروائے۔

Related Posts