کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی ہے، تاہم مولانا فضل الرحمان نے اس پر دلچسپ ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ میں مولانا کہلانا زیادہ پسند کروں گا۔
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرھمان نے اپنے وفد کے ہمراہ گورنر سندھ سے ملاقات کی تھی، جس کے دوران ملکی سیاست اور قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو ہوئی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے جا کر مل جاتے ہیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش میں ہے۔ افغان سرحد سے ایسی حرکت نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کی سالمیت کی بات پر دینی طبقہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ تمام سیاسی اور دینی جماعتیں بھی ملکی سلامتی کیلئے اہم کردار نبھائیں گی۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں نے مولانا فضل الرحمان کیلئے اپنے ہاتھ سے حلیم بنائی۔ پاکستانی علما بھارتی عزائم کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ ملک کا دینی طبقہ بھارت کو ہرانے کیلئے شانہ بشانہ رہا۔ مولانا فضل الرحمان اور ٹیم کا دل سے شکرگزارہوں۔ اللہ تعالیٰ نے 10 مئی کو پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی۔
واضح رہے کہ ایم بی بی ایس کے علاوہ ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی ڈگری لینے والوں کو بھی ڈاکٹر کہاجاتا ہے۔ اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ ہمارے معاشرے کی خوبصورتی ہے کہ سیاسی طور پر مختلف نظریات کے باوجود ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دینے پر شکرگزار ہوں، لیکن اس کے باوجود مولانا کہلانا زیادہ پسند کروں گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک دوسرے کو عزت دینا ہماری روایات میں شامل ہے جس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلافہ م سب ایک پیج پر ہیں۔ افغانستان میں اشرف غنی تک کبھی پاکستان دوست حکومت نہیں رہی۔ دینی علوم اور مدارس کے خاتمے مغرب کا ایجنڈا ہے۔ دفاعی لحاظ سے پاکستان کی پوزیشن اچھی رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








