پی آئی اے کی نجکاری کا عمل بالآخر عارف حبیب گروپ کو فروخت کی صورت میں پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے، یہ عمل جن شرائط کے تحت انجام پایا ہے، وہ سامنے آگئی ہیں۔
نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق یہ طے پایا ہے کہ پی آئی اے کے حصول میں کامیاب سرمایہ کار کو 5 سال میں 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، 75 فیصد حصص کی رقم کا ساڑھے 92 فیصد پی آئی اے میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوگا، ساڑھے 7 فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔
پی آئی اے کے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ فراہم کیا جائے گا، پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی۔
واضح رہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کے کل اثاثہ جات کی مالیت 150 ارب سے 190 ارب روپے کے درمیان ہے، پی آئی اے کے پاس 34 طیارے اور 90 سے زائد روٹس شامل ہیں۔
پی آئی اے اس یومیہ 70 پروازوں کو ملکی و بین الاقوامی روٹس پرآپریٹ کرتا ہے، پی آئی اے کی یومیہ 45 بین الاقوامی اور 25 ڈومیسٹک پروازیں شامل ہیں۔
پی آئی اے موجودہ وقت میں 18 انٹرنیشنل اور 13 ڈومیسٹک روٹس پر پروازیں چلا رہی ہے، پی آئی اے کے پاس بوئنگ ٹرپل سیون ، ائیربس اور اے ٹی آر طیارے بیڑے میں شامل ہیں۔
اس وقت 34 میں سے صرف 18 جہاز آپریشنل ہیں 16 گراونڈ ہیں، پی آئی اے کے مجموعی ملازمین ساڑھے 9 ہزار ہیں۔
پی آئی اے کے پاس ساڑھے 6 ہزار مستقل اور باقی کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز شامل ہیں، پی آئی اے کے امریکا اور فرانس میں قائم ہوٹلز کو ائیرلائن سے علیحدہ کرکے الگ کمپنی میں رکھا گیا ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کے چھ سو ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی حکومت کے ذمے ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








