پاکستان بھر میں بالخصوص کراچی اور سندھ کے شہروں میں رہنے والے مہاجر برادری آج یوم ثقافت بڑی دھوم دھام سے منا رہی ہے۔ یہ دن 1947 کی تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی جدوجہد، قربانیوں اور ثقافتی ورثے کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے۔ مہاجرین جو مختلف علاقوں جیسے اتر پردیش، دہلی، گجرات، راجستھان اور حیدرآباد سے آئے تھے نے پاکستان کی بنیاد میں اہم کردار ادا کیا۔ مہاجرین نہ صرف پاکستان کی معاشی اور سیاسی بنیادوں کو مضبوط کرنے والے تھے بلکہ ایک ایسی ثقافت لائے جو آج بھی کراچی کی گلیوں میں زندہ ہے۔
ہجرت کی کہانی: قربانیوں کا سفر
1947 کی تقسیم کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے ہندوستان سے پاکستان کا رخ کیا جو معلوم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی۔ مہاجرین کو تشدد، نسل کشی اور جبری نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی لہر اگست سے نومبر 1947 تک تھی جب پنجاب، دہلی اور اتر پردیش سے لوگ آئے۔ دوسری لہر 1947 سے 1971 تک جاری رہی جب ہنرمند کاریگر اور پیشہ ور افراد مشترکہ پاسپورٹ کے ذریعے آئے۔ تیسری لہر 1973 سے 1990 کی دہائی تک کم تعداد میں ہوئی۔ یہ لوگ شہری، پڑھے لکھے اور متنوع نسلی پس منظر کے حامل تھے جو کراچی، حیدرآباد اور سکھر جیسے شہروں میں آباد ہوئے۔ 1951 تک کراچی کی 57 فیصد آبادی مہاجر تھی اور انہوں نے پاکستان کی بیوروکریسی، معیشت اور پیشہ ورانہ شعبوں کو سنبھالا۔ آج پاکستان کی 7 فیصد آبادی (تقریباً 1 کروڑ 47 لاکھ) مہاجر ہے جو اردو بولنے والی برادری کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
مزیدار کھانے: مغلیہ اور حیدرآبادی ذائقوں کی خوشبو
مہاجر ثقافت کا سب سے پرکشش پہلو ان کا کھانا ہے جو ہندوستان کی مغلیہ، اودھی اور حیدرآبادی روایات سے ماخوذ ہے۔کراچی کی گلیاں آج بھی ان ذائقوں سے معطر ہیں۔ مشہور پکوانوں میں بریانی، قورمہ، کوفتے، سیخ کباب، نہاری، حلیم، نرگسی کوفتے، روغنی نان اور شیر خورما شامل ہیں۔ یہ کھانے نہ صرف روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں بلکہ تہواروں جیسے عید الفطر، عید الاضحیٰ اور محرم میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ مہاجر باورچی خانوں میں چائے بھی خاص ہے جوکہ مہمان نوازی کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ اسٹریٹ فوڈ جیسے سموسے، چاٹ، کچوریاں اور پکوڑے بھی مہاجر میراث کا حصہ ہیں جو کراچی کو پاکستان کا فوڈ کیپیٹل بناتے ہیں۔ یہ ذائقے پاکستان کی مجموعی کھانوں کی ثقافت کو امیر بناتے ہیں اور آج بھی نوجوان نسل انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔
رہن سہن: شہری خوبصورتی اور خاندانی اقدار
مہاجر رہن سہن شہری، مہذب اور خاندانی اقدار پر مبنی ہے۔ یہ لوگ عموماً شہروں میں رہتے ہیں، جہاں 68 فیصد منصوبہ بند علاقوں میں بنیادی سہولیات کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ ان کی زندگی میں خاندان، مہمان نوازی اور اجتماعیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے، مہاجرین اپنے اندرونی دائرے کے ساتھ وفادار اور انحصار کرنے والے ہوتے ہیں۔ لباس میں شمال ہندوستان کی مسلم روایات جھلکتی ہیں۔ مرد شلوار قمیض اور شیروانی (جو مہاجرین نے پاکستان میں متعارف کروائی) پہنتے ہیں جبکہ خواتین شلوار قیمض، ساڑی یا گھرارہ (نوابوں کے دور کی یادگار) کو ترجیح دیتی ہیں۔ تہواروں میں شاعری، غزلیں، قوالی اور موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے۔ معاشی طور پر خوشحال، 9 فیصد اعلیٰ طبقے، 17 فیصد اعلیٰ متوسط اور 52 فیصد متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواتین میں ملازمت کی شرح سب سے زیادہ ہے جو جدیدیت اور روایات کے توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ کراچی کو پاکستان کا معاشی مرکز بنانے میں مہاجرین کا کردار کلیدی ہے جہاں انہوں نے بینک جیسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، حبیب بینک اور یونائیٹڈ بینک قائم کیے۔
تعلیم و شعور: علم کی روشنی اور قومی ترقی
مہاجرین میں تعلیم اور شعور کی شرح سب سے زیادہ ہے جو ان کی شہری اور پڑھے لکھے پس منظر کی وجہ سے ہے۔ تقسیم سے پہلے یہ لوگ ہندوستان میں اساتذہ، وکلاء اور پیشہ ور تھے اور پاکستان آکر بیوروکریسی اور معیشت کو سنبھالا۔ 1951 میں صرف 15 فیصد غیر ہنرمند تھے جبکہ 61 فیصد ہنرمند کاریگر شامل تھے۔ آج بھی نوجوان نسل تعلیم اور کیریئر پر توجہ دیتی ہے روایتی اقدار کو جدید خواہشات کے ساتھ جوڑتے ہوئے۔ مہاجرین نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، کرکٹ جاوید میانداد جیسے ستارے، سیاست میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی جیسی تنظیمیں اور معیشت میں 42 بڑی کمپنیوں میں سے 36 کا مالکان ہیں۔ یہ شعور قومی اتحاد اور شناخت کی جدوجہد میں بھی نظر آتا ہے جہاں مہاجر ثقافتی دن کے ذریعے اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی خدمت کرتے ہیں۔
یوم ثقافت کے موقع پر کراچی کی گلیوں میں رنگ برنگی تقریبات، موسیقی اور کھانوں کے اسٹالز دیکھنے کو ملتے ہیں جو مہاجر ورثے کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہ دن نہ صرف ماضی کی یاد ہے بلکہ مستقبل کی امید بھی، جہاں مہاجر پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








