بھارت میں رواں سال کرسمس کے تہوار کے موقع پر ہندو انتہاپسند گروہوں کی جانب سے عیسائی برادری کے خلاف تشدد، ہراسانی اور دھمکیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ملک کی مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ حملے انفرادی نہیں بلکہ منظم نوعیت کے ہیں جن کے باعث ملک بھر میں عیسائی برادری میں خوف، عدم تحفظ اور بے چینی کی فضا پھیل گئی ہے۔
ممبئی میں آرچ ڈائیوسیز آف بامبے کے معاون بشپ ڈومینک ساویو فرنینڈیز نے کرسمس کی تقریبات کے دوران پیش آنے والے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عیسائی برادری سے اپیل کی کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں اور نفرت یا غصے کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دیں۔ بشپ فرنینڈیز کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں چند انتہاپسند عناصر کی ہیں اور یہ بھارتی معاشرے کی اصل روح یا مجموعی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت میں ہندوؤں کی بڑی اکثریت عیسائی اداروں، خصوصاً اسکولوں اور اسپتالوں کے ساتھ تعاون کرتی آئی ہے اور دونوں مذاہب کے درمیان باہمی احترام کی ایک طویل روایت موجود ہے۔
![]()
مختلف رپورٹس کے مطابق سال 2025 کے آغاز سے نومبر تک بھارت میں عیسائیوں کے خلاف 700 سے زائد حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں سے بڑی تعداد کرسمس کے موسم کے دوران پیش آئی۔

یونائیٹڈ کرسچن فورم، اوپن ڈورز اور کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا (سی بی سی آئی) سمیت متعدد تنظیموں نے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا نے 23 دسمبر کو جاری کیے گئے ایک باضابطہ بیان میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مطالبہ کیا کہ عیسائی برادری کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کرسمس کا تہوار امن اور سکون کے ساتھ منایا جا سکے۔
ان حملوں کے پس منظر میں اکثر جبری مذہبی تبدیلی کے بے بنیاد الزامات سامنے آتے ہیں جن کے تحت اینٹی کنورژن قوانین کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ وشوا ہندو پریشد اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے عوام کو کرسمس کی تقریبات میں شرکت سے روکنے اور دکانوں کو کرسمس کی سجاوٹ نہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ ان واقعات کے دوران پیش آنے والے چند نمایاں اور تشویشناک واقعات درج ذیل ہیں۔
چھتیس گڑھ کے ضلع کنکر میں 17 دسمبر کو انتہاپسندوں نے دو گرجا گھروں کو آگ لگا دی اور متعدد عیسائی گھروں کو نقصان پہنچایا۔ یہ واقعہ ایک عیسائی شہری کی تدفین کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد پیش آیا۔
مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں 20 اور 22 دسمبر کو دعائیہ اجتماعات پر حملے کیے گئے جہاں ایک مقامی بی جے پی رہنما پر ایک معذور عیسائی خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام بھی سامنے آیا۔
کیرالہ میں 21 دسمبر کو آر ایس ایس سے وابستہ ایک کارکن نے کم عمر بچوں پر مشتمل کرسمس کیرول گانے والے گروپ پر حملہ کیا۔
دارالحکومت دہلی میں سانتا کلاز کی ٹوپیاں پہنے عیسائی خواتین کو بجرنگ دل کے ارکان نے ہراساں کیا اور ان پر جبری مذہب تبدیلی کے الزامات عائد کیے۔
رائے پور کے ایک شاپنگ مال میں کرسمس کی سجاوٹ اور سانتا کلاز کے مجسموں کو نقصان پہنچایا گیا۔
اوڈیشہ میں سڑک کنارے کرسمس کی اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں کو زبردستی روک دیا گیا اور ہندو راشٹر کے نعرے لگائے گئے۔
بھارت کی مجموعی آبادی میں عیسائیوں کا تناسب محض 2.3 فیصد ہے تاہم ہندوتوا نظریے کے فروغ کے بعد ان کے خلاف حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں نے ان واقعات کو منظم تشدد قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شدید تنقید کی ہے۔ عیسائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کرسمس جیسے خوشی کے تہوار اب خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں منائے جا رہے ہیں۔
اس تناظر میں سویڈن کی اپسالہ یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک سوائن نے بھی سوشل میڈیا پر ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔
Hindutva thugs in India are vandalizing a shopping mall for its Christmas decorations! pic.twitter.com/128KqanIW8
— Ashok Swain (@ashoswai) December 25, 2025
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ہندوتوا کے غنڈوں نے لکھنؤ میں ایک گرجا گھر میں کرسمس کی تقریبات میں خلل ڈالا اور مذہبی نعرے بازی کی جبکہ مودی حکومت کے دور میں بھارت اقلیتوں کے لیے ایک مشکل اور خوفناک جگہ بنتا جا رہا ہے۔
In Lucknow, India, Hindutva thugs are disrupting Christmas celebrations in a church by shouting Hindu religious slogans! Modi has made India hell for its minorities! pic.twitter.com/PPwV1lmFxM
— Ashok Swain (@ashoswai) December 25, 2025
انہوں نے پاکستان کے شہر لاہور میں نصب کیے گئے 42 فٹ بلند کرسمس ٹری کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا موازنہ کیا۔
While Hindutva thugs are attacking people who are celebrating Christmas in India, a 42-foot Christmas tree in Lahore, Pakistan! pic.twitter.com/EZQ8g4lnzE
— Ashok Swain (@ashoswai) December 24, 2025
ماہرین کے مطابق ایسے واقعات بھارت کی صدیوں پرانی مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کی روایت کو کمزور کر رہے ہیں اور معاشرے میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مذہبی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانتوں کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے سخت اور فوری اقدامات کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








