فاریکس ٹریڈنگ اور کرپٹو فراڈ کا خطرناک کھیل بے نقاب! کراچی سے 34 ملزمان گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں سرگرم ایک منظم اور بین الاقوامی روابط رکھنے والے آن لائن فراڈ نیٹ ورک کو کامیاب کارروائی کے دوران بے نقاب کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں 34 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں 15 غیر ملکی اور 19 پاکستانی شہری شامل ہیں۔گرفتار افراد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو کرپٹو کرنسی اور فاریکس ٹریڈنگ میں غیر معمولی منافع کا جھانسہ دے کر فراڈ کا نشانہ بناتے تھے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ملزمان جعلی انویسٹمنٹ پورٹلز استعمال کرتے تھے جو معروف اور مستند پلیٹ فارمز کی نقل پر مبنی تھے۔ متاثرین کو ابتدائی طور پر جعلی منافع دکھا کر مزید سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جاتا تھا جس کے بعد رقوم ہتھیا لی جاتی تھیں۔

حکام نے ڈی ایچ اے فیز ون اور فیز سکس میں چھاپوں کے دوران 37 کمپیوٹرز، 40 موبائل فونز، 10 ہزار سے زائد سم کارڈز جن میں غیر ملکی سمیں بھی شامل ہیں اور 6 غیر قانونی گیٹ وے ایکسچینج ڈیوائسز برآمد کیں۔یہ آلات شناخت چھپانے اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹس بنانے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق برآمد شدہ ڈیجیٹل مواد کی فرانزک اور تکنیکی جانچ جاری ہے تاکہ شواہد کو مضبوط بنایا جا سکے اور نیٹ ورک سے جڑے مزید افراد اور بین الاقوامی روابط کا سراغ لگایا جا سکے۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ سائبر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور عوام کو ایسے آن لائن فراڈ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔یہ کارروائی حکومت کی سائبر کرائم کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔

Related Posts