متحدہ عرب امارات میں کرسمس! خوشیوں کے پیچھے چھپی حیرت انگیز بین المذاہب کہانی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

متحدہ عرب امارات میں کرسمس منانے کا انداز نہ صرف تہوار کا جشن منانے تک محدود ہے بلکہ یہ ثقافتی تنوع اور بین المذاہب رواداری کی ایک روشن مثال بھی بن چکا ہے۔ دنیا بھر سے 200 سے زائد قومیتوں کے ایک ساتھ رہنے والے اس ملک میں کرسمس کا موسم خوشیوں، ہم آہنگی اور یکجہتی کے جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے جو نہ صرف مسیحیوں بلکہ تمام برادریوں کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔

یو اے ای کے بڑی شاپنگ مالز، عوامی مقامات اور تہوار کے بازار کرسمس ٹریوں، سجاوٹوں اور تہوار کی موسیقی سے رنگین ہو جاتے ہیں جبکہ کرسمس مارکیٹس، بچوں کے پروگرام اور خاص تہوارانہ مینو بھی ہر طرف دکھائی دیتے ہیں خاص طور پر دبئی اور ابو ظہبی میں لیکن اس خوش گوار فضا کے پیچھے صرف سجاوٹ نہیں ہے بلکہ مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے عیسائی خاندان اپنے اپنے روایتی جشن کو اپنے خاندان، دوستوں اور ہمسایوں کے ساتھ مناتے ہیں جس سے لوگوں کے درمیان ثقافتی تبادلے اور باہمی احترام کا موقع ملتا ہے۔

How Christmas in the UAE became a celebration of diversity and interfaith tolerance

یو اے ای میں مقیم بوسنیا و ہرزیگووینا کی رہائشی ودرانا میلیچ نے عرب نیوز کو بتایا کہ کرسمس منانا انہیں اپنے تہوار اور روایات دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا موقع دیتا ہے خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جو ان روایات سے واقف نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہر مذہب اپنی جگہ خوبصورت ہے اور یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ ہم دوسروں سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔

How Christmas in the UAE became a celebration of diversity and interfaith tolerance

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یو اے ای کی آبادی کا تقریباً 12.6 فیصد حصہ مسیحی ہے اور اس ملک میں تقریباً 40 چرچ اور 700 سے زائد مذہبی جماعتیں موجود ہیں۔

How Christmas in the UAE became a celebration of diversity and interfaith tolerance

ابراہیمی فیملی ہاؤس جو مارچ 2023 میں ابو ظہبی میں عوام کے لیے کھولا گیا بین المذاہب رواداری کی علامت ہے۔ اس کمپلیکس میں مسجد، چرچ اور سینیگاگ ایک ہی مقام پر موجود ہے جس کا مقصد مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

Christmas Markets in Dubai 2025: The Ultimate Festive Guide

تاریخی شواہد بھی یو اے ای میں مسیحی تاریخ کے دیرینہ وجود کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 1992 میں ابو ظہبی کے سر بنی یاس جزیرے پر تقریباً 600 عیسوی کے قریب ایک قدیم مسیحی خانقاہ دریافت ہوئی جبکہ 2022 میں ام القوئن کے عل سینیہ جزیرے پر بھی ایک قدیم خانقاہ کے آثار ملے جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ علاقہ صدیوں سے مختلف مذہبی برادریوں کا گھر رہا ہے۔

Christmas in Dubai 2025: The best festive events

ماضی میں 1950 کی دہائی میں آئل اور گیس سیکٹر کے مسیحی کارکنوں کی پہلی کمیونٹی کو ابو ظہبی کے حکمران شیخ شخبوت بن سلطان النہیان نے خوش آمدید کہا تھا اور سینٹ اینڈریوز انگلیکن چرچ کے لیے زمین بھی دی گئی جو 1968 میں کھلا اور بعد میں سینٹ جوزف چرچ بھی کھولا گیا۔

12 Best Christmas Markets & Events in Dubai 2025

یو اے ای میں ملٹی نیشنل تہوارانہ ماحول واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ایک برطانوی نژاد عیسائی ایملین پیری نے بتایا کہ کرسمس کی فیملی برنچز ہمیشہ بین الاقوامی ذائقوں اور مختلف قومیتوں کے لوگوں سے بھرپور ہوتی تھیں جس میں جرمن جینجر بریڈ سے لے کر انگلش پڈنگ تک خوشیاں بانٹی جاتی تھیں۔

UK Travellers Put Abu Dhabi At The Top Of Their 2025 Christmas Wishlist

فلسطینی باشندہ لیان فراح نے کہا کہ دبئی میں کرسمس منانا بہت خصوصی محسوس ہوتا ہے کیونکہ لوگ اکیلے نہیں مناتے بلکہ شہر کے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔

The best Christmas markets in the UAE for 2025 | Condé Nast Traveller  Middle East

ایک مصری رہائشی ماریانا گمیل کا کہنا ہے کہ اس ملک میں جہاں اکثریت مسیحی نہیں ہے وہاں پوری آزادی اور روح کے ساتھ کرسمس منانا دل کو اور بھی خوش کر دیتا ہے۔

Christmas In UAE 2025 - Latest News, Guide - Time In UAE

یو اے ای میں کچھ ایسی روایات بھی ہیں جو دنیا بھر کے تہواروں جیسی دکھائی دیتی ہیں جیسے سیکریٹ سانتا پارٹی، جینجر بریڈ ہاؤس بنانا لیکن یہاں کی کثیر الثقافتی نوعیت نئی اور منفرد ثقافتی روایات بھی سامنے لاتی ہے۔

یہ تہوار نہ صرف خاندان کے ساتھ وقت گزارنے، کھانے اور تحفے بانٹنے کا موقع دیتا ہے بلکہ دوستوں اور مختلف کمیونٹی ممبران کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا بھی بہترین موقع ہے، جو سماجی ہم آہنگی اور رواداری کی علامت ہے۔

Related Posts