کالعدم خارجی گروہ ٹی ٹی پی نے اپنی نام نہاد ایئرفورس بنالی، ہوشربا تفصیلات

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹی ٹی پی کا ایک پوسٹر، فائل فوٹو

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جسے پاکستانی حکومت سرکاری طور پر فتنہ الخوارج قرار دیتی ہے، نے اپنی ایک “ایئر فورس” کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عسکری تنظیم ڈرون جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔

حالیہ تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے تحت اس خارجی گروہ نے مولوی سلیم حقانی کو اپنی نام نہاد “ایئر فورس” ونگ کا سربراہ مقرر کیا ہے، جبکہ حمزہ کو الیکٹرانکس اور ورکشاپ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

حالیہ عرصے میں سامنے آنے والی عسکریت پسندوں کی ڈرون حملوں کی ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے، جن میں ڈرون یا چھوٹے کوآڈ کاپٹرز کو بطور ہتھیار استعمال کرتے دکھایا گیا ہے، یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی باضابطہ طور پر ڈرون پر مبنی کارروائیوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

دو سے تین لاکھ روپے مالیت کے کوآڈ کاپٹر ڈرونز کو مارٹر شیل یا دیسی ساختہ بارودی مواد (آئی ای ڈی) لگا کر مؤثر طور پر ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔

2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر صوبے کے جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں میں۔ ٹی ٹی پی نے تجارتی مقاصد کے لیے دستیاب کوآڈ کاپٹرز کو آئی ای ڈی، دستی بموں یا مارٹر شیلز سے لیس کر کے بڑھتے ہوئے استعمال میں لایا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 54 ڈرون حملے کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ واقعات شمالی وزیرستان اور بنوں میں رپورٹ ہوئے۔

ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گرد حملے کیوں کر رہی ہے؟
کالعدم خارجی تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کی بنیاد 2007 میں بیت اللہ محسود نے رکھی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد پاکستان میں حکومت کا تختہ الٹ کر اپنے سخت گیر شریعت کے تصور کے مطابق ایک اسلامی ریاست قائم کرنا ہے۔

2018 سے اس تنظیم کی قیادت نور ولی محسود کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں ٹی ٹی پی نے مختلف دھڑوں کو یکجا کیا اور اپنے اہداف کو عام شہریوں کے بجائے سیکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں تک محدود کر دیا۔

Related Posts