پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو کا 18واں یومِ شہادت آج 27 دسمبر 2025 کو منایا جا رہا ہے، جب بے نظیر بھٹو سے دلی انسیت رکھنے والے کارکنان کے زخم ہرے ہوگئے۔ بے نظیر بھٹو ملکی سیاست میں ایک زیرک، باہمت اور غیر معمولی قیادت کے طور پر ابھریں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت بنیں۔
ابتدائی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو بے نظیر بھٹو سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی خاندانی زندگی سے منسلک متعدد واقعات تاریخ کا حصہ بن گئے، جن میں بھٹو خاندان جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے متعدد مصائب کا شکار نظر آیا۔
جون 1972 میں بے نظیر بھٹو اپنے والد کے ہمراہ بھارتی شہر شملہ گئیں، جہاں ذوالفقار علی بھٹو 1971 کی جنگ کے بعد جنگی قیدیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔ یہ دور بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت کے اہم مراحل میں شمار ہوتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ بے نظیر بھٹو نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ والد کی وفات کے بعد جلا وطنی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد بے نظیر بھٹو 1986 میں وطن واپس لوٹیں، جو ان کے فعال سیاسی کردار کے آغاز کا نمایاں سال ثابت ہوا۔ اسی برس مختلف سیاسی ریلیوں سے خطاب ان کی سرگرمیوں کا حصہ رہا۔
سال 1987 میں بے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی، جو ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا۔ اگلے ہی برس 1988 میں بے نظیر بھٹو نے وزیرِاعظم کا منصب سنبھالا اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بن کر تاریخ رقم کی۔
ایک بار پھر 1993 میں انہیں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کا موقع ملا۔ اس دور میں انہوں نے بالخصوص خواتین کے حقوق اور سماجی شعبوں میں مختلف اقدامات کیے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب وہ بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو کی والدہ بنیں، اور خاندان کے ساتھ یادگار وقت گزارا۔
ایک یادگار موقع اس وقت سامنے آیا جب 17 اکتوبر 2007 کو جلا وطنی کے اختتام پر بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں، جبکہ عام انتخابات چند ماہ کی دوری پر تھے۔ واپسی کے بعد انہوں نے قوم سے خطاب کیا اور مختلف سیاسی معاملات پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سابق وزیرِداخلہ رحمان ملک سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت بھی ان کے ہمراہ موجود رہی۔
سیاسی سرگرمیوں اور اقتدار کی کشمکش کے باعث بے نظیر بھٹو کو ذاتی زندگی کے لیے محدود وقت میسر آیا۔ بالآخر 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک دہشت گرد حملے کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








