بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک نرسنگ کی طالبہ نے اپنے کلاس فیلوز کے لیے برتھ ڈے پارٹی کا اہتمام کیا لیکن خوشی کا یہ موقع اچانک ہنگامہ آرائی اور خوفناک صورتحال میں بدل گیا۔ جب انتہا پسند ہندو جماعت بجرنگ دل کے کارکنوں نے پارٹی میں موجود دو مسلم لڑکوں پر مبینہ طور پر لو جہاد کے الزامات لگا کر تشدد کیا۔
یہ واقعہ 27 دسمبر کی رات پریم نگر علاقے کے ایک کیفے میں پیش آیا۔ طالبہ نے اپنے 9 کلاس فیلوز کو مدعو کیا تھا جن میں 6 لڑکیاں اور 4 لڑکے شامل تھے۔ ان میں سے دو لڑکے مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔
پارٹی شروع ہوتے ہی بجرنگ دل کے ارکان کیفے میں داخل ہو ئے اور نعرے بازی کی جبکہ مسلم لڑکوں کو لو جہاد کا مرتکب قرار دیا اور ایک لڑکے پر تشدد کیا۔ جب ایک لڑکی نے مداخلت کی کوشش کی تو اس کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انتہا پسند ہندو نے جے شری رام کے نعرے لگائے اور کیفے کا ماحول خوفناک بنا دیا۔ ایک مسلم لڑکے پر سخت تشدد کیا گیا جبکہ دوسرا بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ یک ویڈیو میں پولیس کو لڑکی کو احتجاج کرتے ہوئے روکتے بھی دکھایا گیا۔
A nursing student in Bareilly, UP, hosted a birthday party for her classmates at a café. The group included six girls and four boys, two of whom were Muslim. Shortly after the celebration began, members of the Bajrang Dal barged in, assaulted the Muslim boy and the girl and… pic.twitter.com/T8b1d7lQvw
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) December 28, 2025
پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا اور طالبہ سمیت تمام حاضرین کو تھانے لے جا کر پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات میں پولیس کو کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملی اور لو جہاد کے لیے کوئی ثبوت نہیں ملا تاہم امن و امان کی خلاف ورزی کے الزام میں دو مسلم لڑکوں اور کیفے کے ایک اسٹاف ممبر کے خلاف چالان کاٹ دیا گیا۔
ہنگامہ آرائی کرنے والے بجرنگ دل کے کارکنوں کو بعد میں سمجھا کر چھوڑ دیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد کیفے مالک کی شکایت پر دو نامزد افراد (رشبھ ٹھاکر اور دیپک پاتھک) سمیت تقریباً 20-25 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ رشبھ ٹھاکر کو حال ہی میں بجرنگ دل سے نکالا گیا تھا۔
طالبہ نے میڈیا کو بتایا کہ پارٹی میں زیادہ تر مہمان ہندو تھے اور صرف دو مسلم دوست شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کلاس فیلوز کا جشن تھا اور الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور سماجی ہم آہنگی پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








