الیکٹرک گاڑیوں سے کس کے مفادات پر اثر پڑ رہا ہے؟ حکومت کا امپورٹڈ ای وی پر ٹیکس لگانے پر غور

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

حکومت نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے بھاری درآمدی بل میں کمی کے لیے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس بات کا انکشاف پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سینیٹر دانش کمار، سینیٹر سید مسرور احسن کے علاوہ وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح کم یا صفر رکھنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ای وی پرزے جو پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں ان کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز بھی عائد کر دی گئی ہیں تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس وصول نہ کی جائے ملک بھر میں یکساں نمبر پلیٹس جاری کی جائیں اور ای وی گاڑیوں سے کم ٹول ٹیکس لیا جائے۔

کمیٹی کو ملک میں الیکٹرک گاڑیوں، خصوصاً موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مینوفیکچرنگ سے متعلق موجودہ پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق اب تک تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 17 جبکہ دو پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 77 مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک ملک میں گاڑیوں کا 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کیا جائے۔ اس مقصد کے تحت 2030 تک 22 لاکھ گاڑیاں حکومتی سبسڈی کے ذریعے عوام کو فراہم کی جائیں گی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ گاڑیاں اور 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں جبکہ رواں سال عوام کو 1 لاکھ 16 ہزار موٹر سائیکلیں اور 3 ہزار 170 رکشے فراہم کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں کاربن لیوی کے ذریعے 120 ارب روپے جمع کیے جائیں گے جو الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کیلئے استعمال ہوں گے۔ اس کے علاوہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے ون ونڈو آپریشن پر کام جاری ہے اور وہ مینوفیکچررز جو برآمدات نہیں کر رہے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

نیو انرجی وہیکلز پالیسی 2025-30

اجلاس میں نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) پالیسی 2025-30 کے اہم نکات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ پالیسی کے تحت گاڑیوں سے ہونے والے اخراج میں کمی، فضائی آلودگی پر قابو پانا، اضافی بجلی کے مؤثر استعمال اور تیل کی درآمد میں کمی جیسے اہداف شامل ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی این ای وی صنعت کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور گرین روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

پالیسی کے مطابق 2030 تک بائیکس، رکشوں، مسافر گاڑیوں، لائٹ کمرشل وہیکلز، بسوں اور ٹرکوں کی نئی فروخت کا 30 فیصد حصہ نیو انرجی وہیکلز پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد 2040 تک یہ شرح 50 فیصد اور 2060 تک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نیٹ زیرو فلیٹ حاصل کرنے کا وژن رکھا گیا ہے۔

پالیسی میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان میں این ای وی کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی ابتدائی قیمت ہے، جسے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ان کی قیمتیں روایتی انٹرنل کمبسشن انجن گاڑیوں کے قریب لائی جا سکیں۔

Related Posts