پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کے طلباء کو بھی لیپ ٹاپ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سال 2025 کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کی طرح 2025ء بھی تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کا سال رہا۔ رواں سال 2 ملین کی گھوسٹ انرولمنٹ ختم کی۔ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کر کے اساتذہ کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے 850 میں سے 550 کالجز میں مستقل پرنسپلز نہیں تھے، اس سال کے دورا ن 450 کالجز میں میرٹ پر پرنسپلز تعینات ہو چکے ہیں۔ جبکہ 29 یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔
اسکولوں میں ٹیکنالوجی کو فروغ دیتے ہوئے تمام ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں سٹیم کلبز بن چکے ہیں جبکہ 50 فیصد ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں سٹیم لیبز بننا شروع ہو گئی ہیں۔ میٹرک ان ٹیکنالوجی میں صرف گریڈ 9 میں 51 ہزار بچے ٹیکنالوجی پڑھ رہے ہیں۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ اسکول آؤٹ سورسنگ کے بعد 250 فیصد انرولمنٹ بڑھی ہے۔ سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھانے کیلئے اپنے بیٹے کو سرکاری اسکول میں داخل کروا کر ایک بے مثال روایت قائم کی۔
ہمارے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے۔ ہمارا کام دکھائی دیتا ہے۔ ہم صرف کرنے کا کہتے نہیں، بلکہ کر کے دکھاتے ہیں۔ آئندہ سال بھی تعلیم کے میدان میں ریکارڈ کام کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








