سعودی عرب کے سخت ردعمل اور بمباری کے بعد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے یمن میں فوجی مشن کے خاتمے اور اپنے فوجی اہلکار واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔
منگل کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ اس نے یمن میں تعینات اپنے انسدادِ دہشت گردی یونٹس کا مشن رضاکارانہ طور پر ختم کر دیا ہے، انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضا کارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی۔
وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے، یہ فیصلہ حالیہ پیشرفت اور سیکورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا۔
اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی۔ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔
وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے، 2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں۔
بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








