بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِاعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی طویل عرصے تک سربراہ رہنے والی خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ قومی اسمبلی کے باہر ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی جن میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس، کابینہ کے ارکان، اعلیٰ فوجی افسران اور بڑی تعداد میں عوام شامل تھے۔
خالدہ ضیاء 30 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔ وہ 79 برس کی تھیں اور کافی عرصے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھیں۔

خالدہ ضیاء 15 اگست 1946 کو دیناجپور میں پیدا ہوئیں، جو اس وقت برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا۔ ان کے والد اسکندر مجمدار ایک تاجر تھے۔ انہوں نے دیناجپور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اور سورندرناتھ کالج سے تعلیم حاصل کی۔

1960 میں کم عمری میں ان کی شادی آرمی افسر ضیاء الرحمٰن سے ہوئی، جو بعد ازاں بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ گھریلو زندگی گزارتی تھیں اور ایک نرم گفتار و شائستہ خاتون کے طور پر جانی جاتی تھیں۔
1971 کی جنگِ آزادی کے دوران وہ نظر بند رہیں تاہم عملی سیاست سے دور رہیں۔ 30 مئی 1981 کو ان کے شوہر ضیاء الرحمٰن فوجی بغاوت کے دوران چٹاگانگ میں قتل کر دیے گئے جس کے بعد خالدہ ضیاء نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔
بی این پی رہنماؤں نے پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے انہیں قیادت سونپی۔ وہ 1982 میں پارٹی کی رکن بنیں 1983 میں وائس چیئرپرسن اور 1984 میں چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔

1980 کی دہائی میں انہوں نے جنرل حسین محمد ارشاد کی فوجی آمریت کے خلاف عوامی لیگ کے ساتھ مل کر بھرپور تحریک چلائی اور متعدد بار نظر بند بھی رہیں۔ 1990 میں ارشاد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد 1991 کے انتخابات میں بی این پی نے 140 نشستیں حاصل کیں اور اتحادی جماعتوں کی مدد سے حکومت بنائی۔

خالدہ ضیاء تین مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم رہیں:
1991 سے 1996، مختصر مدت کے لیے 1996، اور پھر 2001 سے 2006 تک۔

ان کے ادوار میں معاشی لبرلائزیشن، نجکاری، برآمدات پر مبنی ترقی، گارمنٹس انڈسٹری کی توسیع، لڑکیوں کی تعلیم اور صحافت کو نسبتاً آزادی دی گئی۔ 2006 تک بنگلہ دیش کی جی ڈی پی شرح نمو تقریباً 7 فیصد تک جا پہنچی جس پر عالمی بینک نے ملک کو ایشیا کا اگلا ٹائیگر اکانومی قرار دیا۔
تاہم ان کے دور میں کئی تنازعات بھی سامنے آئے جن میں 1995 کی کھاد کی قلت، 2004 میں شیخ حسینہ پر گرینیڈ حملہ اور ان کے بیٹے طارق رحمان پر بدعنوانی کے الزامات شامل تھے۔
خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ کے درمیان طویل سیاسی رقابت کو عالمی میڈیا میں بیٹلنگ بیگمز کے نام سے جانا جاتا رہا جو تقریباً تین دہائیوں تک بنگلہ دیشی سیاست پر چھائی رہی۔

شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں خالدہ ضیاء کو 2018 میں بدعنوانی کے مقدمات میں سزا سنائی گئی اور انہیں جیل بھیجا گیا۔ اگست 2024 میں سیاسی تبدیلی کے بعد وہ رہا ہوئیں جبکہ صحت بگڑنے پر نومبر 2025 میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

خالدہ ضیاء کی سیاسی میراث متضاد مگر نمایاں رہی۔وہ جمہوریت کی بحالی کی علامت سمجھی جاتی ہیں تاہم بدعنوانی کے الزامات اور شدید سیاسی تقسیم بھی ان کے نام سے جڑی رہی۔ وہ ایک قدامت پسند معاشرے میں بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود کبھی ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک مستقل قیام نہیں کیا۔

ان کے صاحبزادے طارق رحمان 25 دسمبر 2025 کو وطن واپس آئے تھے۔ اب خالدہ ضیاء کے انتقال کے بعد بی این پی کو قیادت کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس میں اگلے انتخابات سے متعلق ہیں جو فروری 2026 میں متوقع ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








