بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ ان کی نماز جنازہ قومی اسمبلی کے باہر ادا کی گئی جس میں لاکھوں کی تعداد میں بنگالی عوام شریک ہوئی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ میں پارٹی کارکنوں، سیاسی رہنماؤں اور غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی اور مرحومہ کو آخری خراج عقیدت پیش کیا۔پاکستان سے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے خصوصی طور پر ڈھاکہ کا دورہ کیا اور نماز جنازہ میں شرکت کی۔ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ایاز صادق نے مرحومہ کے بیٹے طارق رحمٰن سے بھی ملاقات کی اور حکومت پاکستان، پارلیمنٹ اور عوام کی طرف سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے خاندان سے ملاقات بھی کی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مرحومہ بیگم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان اور صاحبزادی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء پاکستان کی مخلص دوست تھیں۔پاکستان بیگم خالدہ ضیاء کی دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کے فروغ کے لیے خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سابق وزیراعظم بنگلہ دیش بیگم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر آمد
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی مرحومہ بیگم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان اور صاحبزادی سے ملاقات
اس موقع پر بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمٰن اور مشیر قانون… pic.twitter.com/wYrjGBkW2q
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) December 31, 2025
ایاز صادق نے کہا کہ مرحومہ بیگم خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
نماز جنازہ کے بعد خالدہ ضیاء کو ان کے شوہر صدر ضیاءالرحمٰن کے پہلو میں شیر بنگلہ نگر کے زیاء الدین میں سپرد خاک کیا گیا۔ یہ ریاستی سطح کا جنازہ تھا اور ملک بھر میں تین روزہ سوگ اور ایک دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
نماز جنازہ میں بھارت کی نمائندگی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کی جبکہ نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ سمیت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے اعلیٰ وفود بھی موجود تھے۔ یہ شرکت علاقائی سطح پر خالدہ ضیاء کی سیاسی اہمیت اور پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات میں حالیہ بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
یاد رہے کہ خالدہ ضیاء 30 دسمبر 2025 کو 80 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں اور ملک کی سیاست پر کئی دہائیوں تک اثر انداز رہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








