راولپنڈی: واہ کینٹ میں قریبی رشتہ داروں نے شرمناک ملی بھگت سے قطر سے پاکستان آنے والی خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کردیا، جبکہ قتل پر اکسانے والے مقتولہ کے شوہر نے اسے کسی غیر مرد سے باتیں کرتے ہوئے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقتولہ سمیرا عزیز چند روز قبل قطر سے اپنے چچا شوکت اور فیصل کے ہمراہ پاکستان پہنچی تھی۔ واہ کینٹ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کو گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد اس کے رشتہ دار لاش کو ہسپتال منتقل کر رہے تھے کہ پولیس موقعے پر پہنچ گئی۔
واہ کینٹ پولیس نے خاتون کی لاش کو تحویل میں لے لیا ہے جبکہ واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ مدعی مقدمہ سب انسپکٹر آصف اقبال نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خاتون کو غیرت کے نام پر اس وقت قتل کیا گیا جب مقتولہ کے قریبی رشتہ دار جائے وقوعہ پر موجود تھے۔
ملزمان نے خاتون کے قتل سے قبل آپس میں مشورے کیے تاہم یہ باتیں مقتولہ کی بہن نے سن لیں۔ رات کو دروازے پر دستک ہونے پر مقتولہ اور اس کی بہن نے چچی کو دروازہ کھولنے سے منع کیا تاہم چچا امتیاز نے قطر سے فون کیا اور دروازہ کھولنے کا کہہ دیا، جس کے بعد ملزمان اندر داخل ہوئے جو مقتولہ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
ملزمان ولید اور اسرار کے علاوہ ایک ملزم صابر نے بھی قتل میں معاونت کی جو دروازے پر نگرانی کرنے کیلئے کھڑا رہا۔ مقدمے کے متن کے مطابق بہنوئی سلیمان نے قطر سے چچی سعیدہ کو ویڈیو کال پر ولید اور دیگر ملزمان سے بات کرانے کا کہا۔ اس کے بعد ملزمان سمیرا عیز کو اوپر والی منزل پر لے گئے اور رات ساڑھے 10بجے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد ملزمان ولید اور اسرار جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے تھے۔ کچھ دیر بعد چچا شوکت اور فیصل گھر پہنچے۔ مقدمے کے متن کے مطانق مقتولہ کے شوہر سلیمان نے قطر میں اہلیہ کو کسی غیر مرد سے فون پر بات کرتے دیکھنے کا الزام لگایا ہے اور اس کے کہنے پر ہی سمیرا عزیز کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








