پنجاب میں معروف سیاسی پارٹی کے رہنما کو شادی کی تقریب میں کیسے نشانہ بنایا گیا! ویڈیو دیکھیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارتی پنجاب میں ایک بار پھر سیاسی شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے جہاں شادی کی ایک خوشی ماتم میں بدل گئی۔ ضلع ترن تارن کے ایک گاؤں کے سرپنچ کو مسلح افراد نے سرِعام فائرنگ کر کے قتل کردیا جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

تفصیلات کے مطابق ترن تارن ضلع کے گاؤں والٹوہا کے سرپنچ اور عام آدمی پارٹی کے مقامی رہنما 50 سالہ جرمَل سنگھ اتوار کے روز ضلع امرتسر میں ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔ یہ تقریب ویرکا بائی پاس کے قریب واقع ایک معروف ریزورٹ میں جاری تھی کہ اسی دوران دو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں جرمَل سنگھ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

اس واقعے کی ایک اہم اور حیران کن بات یہ ہے کہ فائرنگ کے وقت عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی سروَن سنگھ دھن بھی اسی ریزورٹ میں موجود تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔

یہ قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند ہفتے قبل مشہور کبدی کھلاڑی اور پروموٹر کنور دِگ وجے سنگھ جنہیں رانا بلاچوریا کے نام سے جانا جاتا تھا،کو بھی فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ رانا بلاچوریا کو 15 دسمبر کو موہالی میں ایک کبدی ٹورنامنٹ کے دوران تین حملہ آوروں نے نشانہ بنایا تھا۔

رانا بلاچوریا کا قتل بھی ایک عوامی مقام پر اس وقت کیا گیا جب متعدد کبدی کھلاڑی اور تماشائی وہاں موجود تھے۔ یہ واقعہ شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے موہالی کے سیکٹر 79 میں سوهانا پولیس اسٹیشن سے صرف 300 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق سرپنچ جرمَل سنگھ ہمسایہ گاؤں امرکوٹ کے سرپنچ ہرجیت سنگھ سیری کی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے ریزورٹ پہنچے تھے جہاں حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی جبکہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

Related Posts