بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر علی گڑھ کے رہائشی بادل بابو کی کہانی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ بادل نے اپنی آن لائن گرل فرینڈ سے ملنے کے لیے غیر قانونی طور پر پاکستان کا رخ کیا اور دسمبر 2024 میں پاکستانی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ ویزہ یا دیگر قانونی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے اسے جیل میں رکھا گیا اور 30 اپریل 2025 کو عدالت نے اسے ایک سال قید کی سزا سنائی جو اب مکمل ہو چکی ہے۔
بادل بابو کے پاکستانی وکیل فیاض رامے نے حال ہی میں خاندان کو تازہ صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ وکیل کے مطابق بادل نے جیل میں رہتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ہے اور روزانہ نماز پڑھتا ہے۔ سزا مکمل کرنے کے باوجود بادل بھارت واپس جانے سے انکار کر رہا ہے اور پاکستان میں ہی رہنے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم قانون کے مطابق غیر ملکی شہری کو سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدر کرنا ضروری ہے۔
فیاض رامے نے بتایا کہ بادل نے ملاقات کے دوران کسی سے بھی مزید معلومات شئیر نہیں کی ہیں اور بھارتی سفارت خانے سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ حکومت پاکستان کے ذریعے حتمی فیصلے پر عمل درآمد ہو سکے۔
بادل کے اہل خانہ نے بھی حکومت سے مدد کی درخواست کی ہے۔ والد کرپال سنگھ اور والدہ جذباتی طور پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر پہنچے اور وزیر اعظم کے نام ایک میمورنڈم جمع کروایا۔
بادل کے والد نے کہا کہ ان کے بیٹے کی سزا پوری ہو چکی ہے مگر جرمانہ ادا کرنے کی مالی حیثیت نہ ہونے کے باعث وہ وطن واپس نہیں آسکتا۔ کرپال سنگھ نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں لیکن اپنے بیٹے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آخر وہ ہمارا بیٹا ہے، ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے ہیں۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں بادل کے اسلام قبول کرنے کی سرکاری اطلاع نہیں ملی اور یہ بات انہیں صرف میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئی۔ خاندان کو سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ بادل اپنی مرضی سے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کر چکا ہے جبکہ بھارتی حکومت کی مدد درکار ہے۔
بادل کے اہل خانہ نے بھارتی حکومت، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر اعظم اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کو خطوط بھیجے ہیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے بیٹے کو واپس لانے اور جرمانے کی ادائیگی میں مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں اہل خانہ کے خدشات سنے گئے اور میمورنڈم وصول کر لیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








