ضلع سوات میں تحریک انصاف کے ایک رکن صوبائی اسمبلی علی شاہ خان نے روڈ شاہی کے علاقے میں ٹریفک پولیس کے اہلکار عزت علی پر نہ صرف تشدد کیا بلکہ ان پر تھپڑ مارے، دھکے دیے اور بدتمیزی بھی کی جس پر اہلکار کی مدعیت میں علی شاہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 4 جنوری 2026 کو پیش آیا اور پولیس نے ملزم کے خلاف دفعہ 500، 506، 186 اور 353 کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔
واقعے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ علی شاہ نے اپنی سیاسی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹریفک اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کی جو قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب پی ٹی آئی وفاق اور دوسرے صوبوں پر قانون شکنی کا الزام لگاتی ہے تو خیبرپختونخوا میں ان کی اپنی حکومت قانون کو کس حد تک نظر انداز کرتی ہے۔
حکومت کی نااہلی اور قانون کی خلاف ورزیوں نے اس صوبے میں قانون کی حکمرانی کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا ہے جہاں اعلیٰ عہدے دار بھی قانون سے بالاتر ہو کر اپنی مرضی چلا رہے ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی طاقت کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن اس کے باوجود سیاسی طاقتور افراد کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
مقامی انتظامیہ نے واقعے کے بعد متاثرہ اہلکار کو تحفظ فراہم کرنے اور ایم پی اے علی شاہ کے خلاف فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کریں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
یہ واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ قانون کے تحفظ کے لیے صرف الفاظ کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور سب کے لیے قانون کی برابری کی حکمرانی ناگزیر ہے خاص طور پر ایسے ادوار میں جب سیاسی لوگ خود قانون کی دھجیاں اُڑا رہے ہوں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








