برطانوی حکومت نے بچوں کی صحت کے تحفظ کیلئے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیلی ویژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کی تشہیر پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت زیادہ چکنائی، نمک اور چینی والی غذائی اشیا کے اشتہارات دن کے اوقات میں ٹی وی پر نشر نہیں کیے جا سکیں گے جبکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر ان کی ادا شدہ تشہیر پر مکمل پابندی ہو گی۔
حکومتی فیصلے کے مطابق ٹی وی پر ایسے اشتہارات شام 9 بجے کے واٹرشیڈ سے پہلے دکھانا ممنوع ہو گا تاکہ بچے ان اشتہارات کے اثر سے محفوظ رہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایچ ایف ایس ایس مصنوعات کے تمام قسم کے پیڈ (ادائیگی شدہ) اشتہارات کسی بھی وقت نشر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی چاہے ناظرین یا صارفین کی عمر کچھ بھی ہو۔
پابندی کی وجوہات
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے موٹاپے کے مسئلے پر قابو پانا اور ان کی غذائی عادات کو بہتر بنانا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پابندیاں عوامی صحت سے متعلق وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے بچوں کے لیے صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنا مقصود ہے۔
اس پالیسی کے تحت دیگر اصلاحات بھی متعارف کروائی گئی ہیں جن میں شوگر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا شامل ہے۔ اب یہ ٹیکس ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی مشروبات اور میٹھے دہی والے ڈرنکس پر بھی لاگو ہو گا۔ اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ کو اسکولوں کے قریب فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹس کھولنے پر پابندی لگانے کے مزید اختیارات دے دیے گئے ہیں۔
حکومت کے اندازوں کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں بچوں کی سالانہ کیلوریز کے استعمال میں تقریباً 7.2 ارب کیلوریز تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے تقریباً 20 ہزار بچوں کو موٹاپے کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے گا جبکہ نیشنل ہیلتھ سروس کو طویل مدت میں تقریباً 2 ارب پاؤنڈ کی بچت ہو گی۔
برطانوی وزراء کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات مل کر نہ صرف بچوں کے لیے صحت مند غذائی ماحول پیدا کریں گے بلکہ مستقبل میں صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
واضح رہے کہ جنک فوڈ کی تشہیر پر پابندی کا یہ فیصلہ دسمبر 2024 میں کیے گئے حکومتی اعلان کے بعد اب باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








