بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں خاتون آٹو رکشہ ڈرائیور انیتا چودھری کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ابتدا میں اس واقعے کو سڑک حادثہ ظاہر کیا گیا تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اصل حقیقت بے نقاب کر دی جس کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اسٹیشن روڈ پر رات تقریباً دو بجے پیش آیا۔جب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ایک گولی ان کے سر میں لگی جس کے باعث وہ آٹو پر قابو نہ رکھ سکیں رکشہ ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گیا اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئیں۔
ابتدا میں پولیس نے اسے ٹریفک حادثہ قرار دیا تاہم پوسٹ مارٹم کے دوران گلے میں گولی لگنے کے شواہد ملنے پر قتل کی تصدیق ہوئی۔ مقتولہ 40 سالہ انیتا چودھری ضلع امبیڈکر نگر کے علاقے تالوپرا (تھانہ نواباد) کی رہائشی تھیں اور پیشے کے لحاظ سے آٹو رکشہ چلاتی تھیں۔
مقتولہ کی بہن ونیتا چودھری کے مطابق انیتا رات تقریباً ساڑھے نو بجے گھر سے آٹو چلانے نکلی تھیں۔ رات دو بجے کے قریب اطلاع ملی کہ وہ ڈھوکوواں کالونی کے نزدیک خون میں لت پت پڑی ہیں۔ بہن کا کہنا ہے کہ اگر یہ محض حادثہ ہوتا تو جسم پر مزید چوٹوں کے نشان ہونے چاہئیں تھے جبکہ واقعے کے بعد انیتا کا منگل سوتر، کان اور ناک کے زیورات، پائل اور موبائل فون غائب تھے۔
اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ پہلے لوٹ مار کی گئی پھر خاتون کو قتل کرکے آٹو کو الٹ دیا گیا تاکہ واقعے کو حادثہ ظاہر کیا جا سکے۔ پولیس نے ابتدا میں شام تک واقعے کو حادثہ ہی سمجھا لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے شوہر دیوریکا کی مدعیت میں مکیش جھا، اس کے بیٹے شیوام جھا اور دیورنوئی منوج جھا کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقتولہ کی بہن نے بتایا کہ صبح ایک شخص نے فون پر اطلاع دی کہ گولی مکیش جھا نے چلائی تھی اور اس شخص نے پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ بیان بھی ریکارڈ کروایا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کے خلاف شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








