ایران میں جاری شدید معاشی بحران، مہنگائی اور سخت سماجی پابندیوں کے خلاف احتجاج اب ایک نئی شکل اختیار کر گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں ایرانی نوجوان خواتین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر کو آگ لگا کر اسی شعلوں سے اپنا سگریٹ جلاتی دکھائی دے رہی ہیں۔
یہ عمل محض ایک احتجاج نہیں بلکہ دوہری بغاوت کا اظہار ہے۔ ایک طرف سپریم لیڈر کی تصویر جلانا جو ایرانی قانون کے تحت سنگین جرم ہے اور سخت سزا کا باعث بن سکتا ہے جبکہ
دوسری طرف عوامی جگہوں پر سگریٹ پینا جو خواتین کیلئے طویل عرصے سے مذہبی اور سماجی طور پر ممنوع یا سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ رجحان گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ملک گیر مظاہروں کا حصہ ہے جو ریال کی تاریخی گراوٹ، 50 فیصد سے زائد مہنگائی، خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور لازمی حجاب سمیت خواتین پر پابندیوں کے خلاف شروع ہوا۔
انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک کم از کم درجنوں مظاہرین اور 4 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد گرفتار ہیں۔
مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکام نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے اور احتجاج کو دبانے کے لیے سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں لیکن یہ ویڈیوز دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
ایک ویڈیو میں ایک خاتون کہتی دکھائی دیتی ہے کہ یہ صرف سگریٹ نہیں یہ 47 سالہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی آگ ہے۔
یہ احتجاج ایرانی خواتین کی قیادت میں جاری انقلاب کی ایک نئی اور طاقتور مثال بن چکا ہے جہاں وہ نہ صرف سیاسی نظام بلکہ صنفی پابندیوں کے خلاف بھی کھل کر لڑ رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








