پاکستانی سی فوڈز دنیا بھر میں چھا جائے گا! جانیں کورنگی فشریز ہاربر میں کیا ہونے والا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کا کہنا ہے کہ کراچی میں کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر مشتمل ایک جدید سمندری غذا پروسیسنگ اور ایکسپورٹ زون قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تخمینی لاگت 60 سے 80 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کی سمندری غذا کی صنعت کو خام برآمدات سے ہٹا کر اعلیٰ قدر والے پروسیسڈ مصنوعات کی طرف منتقل کرنا ہے تاکہ خلیجی ممالک، مشرقی افریقہ اور ایشیائی مارکیٹوں میں ملک کی پوزیشن مضبوط ہو۔

محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام درمیانے پیمانے کے پروسیسرز اور ویلیو ایڈڈ یونٹس کو بین الاقوامی خریداروں سے جوڑے گا، جدید انفراسٹرکچر، سرٹیفیکیشن کی تعمیل اور مؤثر ایکسپورٹ لاجسٹکس فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ حکومت کی بلیو اکانومی کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

منصوبہ ویتنام، چین اور ایکواڈور جیسے ممالک کے کامیاب ماڈلز کی طرز پر تیار کیا جائے گا اور یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) یا بلڈ آپریٹ ٹرانسفر (BOT) ماڈل کے تحت بنایا جائے گا جہاں پرائیویٹ سرمایہ کار ترقی، آپریشن اور دیکھ بھال کریں گے جبکہ KOHFA ریگولیٹری نگرانی فراہم کرے گی۔

اہم تفصیلات:

زون میں 20 سے 25 درمیانے اور بڑے پیمانے کی پروسیسنگ یونٹس ہوں گی، جو مچھلی، جھینگا اور دیگر سمندری غذا کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور ایکسپورٹ پیکنگ کریں گی۔

جدید کولڈ سٹوریج اور بلاسٹ فریزنگ کمپلیکس (-18°C سے -40°C تک) قائم کیا جائے گا۔

روزانہ 50 سے 100 ٹن کی گنجائش والے آئس پلانٹس اور فلیک آئس سٹیشنز دستیاب ہوں گے۔

BOT ماڈل کے تحت 20 سال بعد (ممکنہ توسیع کے ساتھ) ملکیت KOHFA کو منتقل کر دی جائے گی۔

آمدنی کے ذرائع میں زمین کا کرایہ، پروسیسنگ چارجز، کولڈ سٹوریج، لاجسٹکس، یوٹیلیٹیز، ایکسپورٹ شیئرنگ اور ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس سے منافع شامل ہوگا، جس کی متوقع شرح 13-17 فیصد ہے۔

پرائیویٹ سیکٹر مکمل فنانسنگ اور آپریشن کرے گا جبکہ KOHFA زمین، جیٹی رسائی اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کرے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کی سمندری معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Related Posts