سب کی فحاش تصاویر اور ویڈیو بنا رہا ہے! حکومت نے گروک چیٹ بوٹ پر پابندی لگا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

انڈونیشیا نے ایلون مسک کی کمپنی ایکس ائ آئی کے تیار کردہ چیٹ بوٹ گروک تک رسائی عارضی طور پر بلاک کر دی ہے۔ یہ فیصلہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی غیر رضامندانہ جعلی فحش تصاویر (جنسی ڈیپ فیکس) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کی وزیر برائے مواصلات و ڈیجیٹل امور نے کہا کہ غیر رضامندانہ جنسی ڈیپ فیکس انسانی حقوق، انسانی وقار اور ڈیجیٹل دنیا میں شہریوں کے تحفظ کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین، بچوں اور عام شہریوں کو اے آئی کے ذریعے تیار کیے جانے والے جعلی فحش مواد سے بچانے کے لیے حکومت نے گروک ایپ تک رسائی کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گروک میں صارفین کو تصاویر میں ترمیم کرنے کی سہولت دی گئی تھی جس کے تحت کسی شخص کی تصویر میں کپڑوں کو ہٹا کر اسے نیم برہنہ یا فحش انداز میں دکھایا جا سکتا تھا۔ اس فیچر کے باعث بڑے پیمانے پر جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر تیار کی گئیں جن میں خواتین اور نابالغ بچے بھی شامل تھے جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید سامنے آئی۔

تنازع کے بعد ایکس اے آئی نے گروک کی امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ کی سہولت کو صرف پیسے ادا کرنے والے سبسکرائبرز تک محدود کر دیا تھا تاہم کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کے دفتر نے اس فیصلے کو متاثرین کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر قانونی مواد تیار کرنے کو ایک پریمیم سروس بنا دیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کی حکومت نے اس معاملے پر وضاحت کے لیے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے نمائندوں کو بھی طلب کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا میں آن لائن فحش مواد کے خلاف پہلے ہی سخت قوانین نافذ ہیں اور یہ ملک تقریباً 28 کروڑ 50 لاکھ آبادی کے ساتھ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔

حکام کے مطابق گروک پر عائد پابندی عارضی ہے اور مستقبل میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال، اخلاقی حدود اور عالمی سطح پر ریگولیٹری ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو مزید تیز کر رہا ہے۔

Related Posts