ایران میں پرتشدد احتجاج، 23سالہ طالبہ بھی جاں بحق، ہلاکتیں 500 سے زائد ہوگئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران
(فوٹو: آن لائن)

ایران میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جس کے دوران 23سالہ طالبہ روبینہ امینیان گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئیں۔ مختلف جھڑپوں اور دیگر حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 500 سے زائد ہوگئی، جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی رائٹس گروپ ہرانا کا کہنا ہے کہ ایران میں معاشی بحران اور کرنسی کی قدر میں بد ترین تاریخی گراوٹ کے بعد شروع ہونے والے احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد 500 سے زائد ہوگئی ہے۔ گروپ نے یہ دعویٰ اتوار کے روز کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گروپ نے جو سپریڈ شیٹ جاری کی جو ایران کے اندر اور باہر موجود ایکٹیوسٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی، اس میں 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ گرفتاریوں کی تعداد 1000سے زائد ہوگئی۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے بیان کیے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک طالبہ کو قریب سے سر میں گولی مار کر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ 23سالہ روبینہ امینیان تہران میں واقع شریعتی کالج کی طالبہ تھیں اور ٹیکسٹائل اور فیشن ڈیزائن کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

Related Posts