وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو قومی زبان کے معاملے پر دوہرے معیار کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ چند روز قبل پشاور میں شہید بینظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کے کانووکیشن کے دوران انگریزی زبان میں تقریر کرنے پر وائس چانسلر کو سرِعام تنقید کا نشانہ بنانے والے وزیراعلیٰ خود کراچی میں مزارِ قائد پر مہمانوں کی کتاب میں انگریزی زبان میں تاثرات درج کرتے نظر آئے۔
پشاور میں شہید بینظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں یہ طرزِ عمل پسند نہیں آیا۔ انہوں نے واضح ہدایت جاری کی کہ چونکہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اس لیے آئندہ تمام سرکاری اور تعلیمی تقریبات میں اردو زبان کو ترجیح دی جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی تمام جامعات کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ تقریبات میں اردو زبان میں خطاب کیا جائے اور اگر آئندہ کسی نے انگریزی میں تقریر کی تو سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم چند روز بعد کراچی کے دورے کے دوران بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات انگریزی زبان میں قلم بند کیے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل دیا۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اگر انگریزی زبان خود وزیراعلیٰ کے لیے قابلِ قبول ہے تو دوسروں کو سرِعام تنقید کا نشانہ بنانا دوہرے معیار کے مترادف ہے۔
خود کرو تو ٹھیک دوسرے کرے تو تنقید ۔۔۔ یہ جہالت کیمیکل انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔قول و فعل میں تضاد اور مصنوعی باتوں کا سہارا۔۔۔
ابھی چند دن قبل وزیراعلی سہیل آفریدی نے بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر پر تنقید کی تھی
خود وزیراعلی نے مزار قائد پر… pic.twitter.com/UjfIr4g7N3— Irfan Khan (@irfijournalist) January 12, 2026
سوشل میڈیا پر اس معاملے کو قول و فعل میں تضاد اور مصنوعی قومی بیانیہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو قومی زبان کے فروغ کیلئے صرف تقریریں نہیں بلکہ عملی مثال پیش کرنا ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








