ایران میں گزشتہ کئی روز سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن کے دوران اب تک 500 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ایرانی سرکاری اور مقامی میڈیا نے مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق رپورٹس کو بے بنیاد اور مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مغربی میڈیا زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے جبکہ اصل اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں۔
دوسری جانب حکومت مخالف اور بادشاہت کے نظام کے حامی مظاہرین کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصاویر جلانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک نوجوان لڑکی کو آیت اللہ خمینی کی تصویر نذرِ آتش کرتے اور اسی آگ سے سگریٹ سلگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس نے ملک میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔
حکومت مخالف مظاہروں کے جواب میں ایرانی حکومت کے حامی بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ حکومت حامی مظاہرین نے ان احتجاجی مظاہروں کو ملک دشمنی قرار دیتے ہوئے بیرونی سازش کا حصہ قرار دیا۔
تہران میں منعقد ہونے والے ایک بڑے حکومتی حامی اجتماع کے دوران مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تصاویر نذرِ آتش کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ حکومتی حامیوں کا کہنا تھا کہ ایران میں بدامنی پھیلانے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کا کردار ہے۔
Images of Trump and Netanyahu were burned at today’s massive rally in Tehran pic.twitter.com/lf5qDTWdom
— Iran Military Monitor (@IRIran_Military) January 12, 2026
صورتحال کے پیش نظر ایران کے مختلف شہروں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ مظاہروں اور جوابی ریلیوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








