قومی اسمبلی کے نئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

محمود خان اچکزئی
(فوٹو: آج نیوز)

محمود خان اچکزئی پاکستان کے سینئر اور بااثر سیاسی رہنما، پشتون حقوق کے نمایاں علمبردار اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے چیئرمین ہیں۔ وہ ملک کی اُن سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو طویل عرصے سے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور وفاقی نظام کے استحکام کی بات کرتے آئے ہیں۔

محمود خان اچکزئی 14 دسمبر 1948 کو کوئٹہ، بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک سیاسی اور نظریاتی گھرانے سے ہے۔ وہ معروف قوم پرست رہنما عبدالصمد خان اچکزئی کے فرزند ہیں، جنہوں نے برصغیر میں جمہوری جدوجہد اور پشتون حقوق کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ تعلیم کے شعبے میں محمود خان اچکزئی نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، پشاور سے سول انجینئرنگ میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔

سیاسی میدان میں ان کا عملی سفر والد کے انتقال کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا، جب 1989 میں انہوں نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ تب سے اب تک وہ مسلسل اس جماعت کے چیئرمین ہیں اور پشتون قوم کے سیاسی، سماجی اور آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے آ رہے ہیں۔

پارلیمانی سیاست میں محمود خان اچکزئی متعدد بار عوام کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں۔ وہ 2002، 2013 اور 2024 میں مختلف حلقوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں وہ بلوچستان کے حلقہ این اے 266 چمن سے کامیاب ہو کر قومی اسمبلی پہنچے۔ وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، جو ملک میں آئینی عمل اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی۔

موجودہ سیاسی منظرنامے میں ان کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام تر اختیارات بھی محمود خان اچکزئی کو سونپے گئے، جو ان کی سیاسی ساکھ اور اعتماد کا مظہر ہے۔ بعد ازاں وہ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مقرر ہوئے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی آج جاری ہو چکا ہے۔

تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی  نے حکومت مخالف سیاسی احتجاجوں اور جلسوں میں بھی بھرپور شرکت کی۔ وہ عوام کو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے منظم جدوجہد کی دعوت دیتے اور  ساتھ ہی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مکالمے اور مشترکہ حکمت عملی پر بھی زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک قومی سطح پر درپیش مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ اتحاد، ڈائیلاگ اور جمہوری اصولوں کی پاسداری میں ہے۔

Related Posts