کہاں ہے سندھ حکومت کا شو بوائے؟ گل پلازہ میں آتشزدگی مگر میئر مرتضیٰ وہاب غائب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے تاریخی اور مصروف تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف گل پلازہ میں گزشتہ رات تقریباً ساڑھے دس بجے خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے میں کم از کم 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ 30 سے زائد افراد شدید جھلس کر زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور عمارت کے کچھ حصے منہدم ہو چکے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے زیر انتظام فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ جو شہر کی آگ بجھانے، ریسکیو، فائر سیفٹی انسپیکشن اور آگاہی کی ذمہ دار ہے اس سنگین صورتحال میں بھی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہیں نام و نشان نہیں ملا۔ شہریوں اور متاثرین کے مطابق، میئر کل رات سے لے کر اب تک گل پلازہ کے اطراف میں بھی نظر نہیں آئے۔

یاد رہے کہ فائر بریگیڈ مکمل طور پر کے ایم سی کے ماتحت ہے۔اس کے افسران اور عملہ کے ایم سی ہی کے ذریعے بھرتی اور ٹریننگ ہوتے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ میئر جو بارشوں کے دوران ڈیفنس کی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑا کر سڑکیں صاف قرار دیتے رہے (حالانکہ ڈیفنس ان کی حدود میں نہیں آتا) اپنی اصل حدود میں پیش آنے والے اس بھیانک حادثے پر کہاں غائب ہیں؟ گل پلازہ تو براہ راست کے ایم سی کی حدود میں آتا ہے جہاں فائر سیفٹی کے سخت انتظامات ان کی ذمہ داری تھی۔

رکن قومی اسمبلی فہیم خان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ کراچی گل پلازہ میں گزشتہ شب سے آگ لگی ہوئی ہے میں خود موقع پر موجود ہوں افسوسناک عمل یہ ہے کہ نااہل حکومت کے ہوتے ہوئے لاوارث کراچی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اربوں روپے ٹیکس دینے کے باوجود نہ تو مناسب انتظامات ہیں اور نہ ہی اب تک آگ پر قابو پایا جا سکا ہے۔ یہ صورتحال حکومتی نااہلی اور شہریوں سے بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔

دکانداروں اور گواہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں، گاڑیوں میں پانی کی کمی تھی اور ابتدائی ردعمل ناکافی رہا۔ اس کے باوجود میئر مرتضیٰ وہاب نے صرف ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا اور تمام ٹیمیں مصروف ہیں کہہ کر بات ختم کر دی۔

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ گل پلازہ میں کل رات سے لگی آگ آج سہ پہر تک بجھائی نہیں جا سکی ہے۔ لوگ اپنے پیاروں لو ڈھونڈنے بے یاروں مددگارپاہر کھڑے ہیں۔ دنیا میں حادثات ہوتے ہیں، لیکن کسی بلڈنگ جو ئائی رائز نہ ہو اس میں لگی آگ پر قابو پانا کوئی راکٹ سائنس نہیں لیکن اس نالائق حکومت نے اس شہر کو مرنے کیلئے چھوڑا ہوا ہے۔ سندھ حکومت اور انہی کی بلدیاتی حکومت ذمہ دار ہےاس تباہی کی، لوگوں کی جان و مال کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے انکوائری کا حکم دے دیا ہے مگر شہری پوچھ رہے ہیں میئر کراچی کی ذمہ داری کہاں گئی؟ کیا وہ صرف کیمرہ فریم میں نظر آنا جانتے ہیں یا حقیقی بحران میں بھی سامنے آئیں گے؟

یہ واقعہ کراچی کے عوام کے لیے ایک اور وارننگ ہے کہ شہر کی بلدیاتی ادارے کی ناکامی اور قیادت کی لاپرواہی کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور تاجروں کو فوری انصاف اور امداد کی ضرورت ہے نہ کہ صرف افسوس کے بیانات کی۔

Related Posts