لاہور گولڈ اسکینڈل؛ اربوں روپے کا سونا غائب کرنے والا ملزم شیخ وسیم قانون کے شکنجے میں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

لاہور کے معروف صرافہ بازار لطیف سینٹر میں سونے کے بڑے فراڈ کے مرکزی ملزم شیخ وسیم اختر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے متعدد جیولرز سے تقریباً 20 کلوگرام سونا لے کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شیخ وسیم اختر کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے خلاف تھانہ اچھرہ میں متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔ یہ مقدمات لاہور کے مشہور لطیف سینٹر گولڈ مارکیٹ کے تاجروں کی درخواست پر درج کیے گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس فراڈ میں تقریباً 20 کلوگرام سونا غائب کیا گیا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ سونے کی حتمی مقدار اور مالیت کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

یہ معاملہ دسمبر میں اس وقت سامنے آیا جب لطیف سینٹر میں کاروبار کرنے والا تاجر شیخ وسیم دیگر دکانداروں کا سونا لے کر مبینہ طور پر لاپتہ ہو گیا۔ واقعے کے بعد فیروزپور روڈ پر واقع اس مارکیٹ کے متعدد دکانداروں نے پولیس سے رجوع کیا جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں ایک شخص کو شاپنگ بیگ اٹھائے ہوئے لے جایا جا رہا ہے۔ ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس میں دکھایا گیا شخص وہی تاجر ہے جو مبینہ طور پر 20 کلوگرام سونا جس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے لے کر فرار ہوا تھا۔

واضح رہے کہ لطیف سینٹر لاہور میں سونے کی خرید و فروخت کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں درجنوں زیورات کی دکانیں قائم ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق 4 دسمبر کو احمد صدیقی نے مدینہ جیولرز کے مالک شیخ وسیم اختر کو بطور امانت آٹھ سونے کے کنگن دیے تھے جن کا وزن 588 گرام اور مالیت تقریباً 2 کروڑ 25 لاکھ روپے تھی۔

مدعی کے مطابق جب اسی روز سونا واپس مانگا گیا تو ملزم نے اپنی بھابھی کے انتقال کا بہانہ بنا کر کراچی جانے کی بات کی اور 9 دسمبر کو کنگن واپس کرنے کا وعدہ کیا تاہم اس کے بعد اس کا موبائل فون بند ہو گیا۔

احمد صدیقی نے بتایا کہ صرف وہی نہیں بلکہ شیخ وسیم اختر کے مارکیٹ کے دیگر دکانداروں کے ساتھ بھی کاروباری لین دین موجود تھا۔ پولیس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم کے پاس مارکیٹ کے کئی دیگر دکانداروں کا سونا بھی موجود تھا۔

Related Posts