سانحہ گل پلازہ کا درجہ حرارت

تازہ ترین

تازہ ترین

سانحہ گل پلازہ کراچی کی تاریخ کا ایک نیا سیاہ باب ہے۔ خبر محض اطلاع نہیں ہوتی، بلکہ ایک حرارتی نظام کی مانند ہوتی ہے جس میں کچھ واقعات سرد رہتے ہیں، کچھ نیم گرم ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھڑکتے ہیں کہ پورے معاشرتی ڈھانچے کی دھات کو نہ صرف نرم کرتے ہیں بلکہ پگھلا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صحافت کے اس بازار میں ہر خبر کے درجۂ حرارت کو جانچنا ایک بنیادی فکری ذمہ داری ہے، کیونکہ بعض اطلاعات وقتی سرد جھونکا ثابت ہوتی ہیں، جبکہ کچھ حادثات اجتماعی شعور کے تھرمامیٹر کو خطرناک حد تک اوپر لے جاتے ہیں۔

کراچی میں آتشزدگی اور عمارتوں کے گرنے کی خبریں برسوں سے آتی رہی ہیں، مگر زیادہ تر خبریں ایسی ہوتی ہیں جن کا حرارتی اثر چند دنوں میں معمول پر آ جاتا ہے، اور سماج کا بدن ان کو معمولی تپش سمجھ کر نظرانداز کر دیتا ہے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ بھی ابتدا میں ایسی ہی ایک معمولی حرارت محسوس ہوئی، ایک ایسا شارٹ سرکٹ جو خبروں کے کولڈ اسٹوریج میں چند گھنٹوں میں ٹھنڈا ہو جانا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ یہ حادثہ دراصل ایک ساختیاتی آگ ہے جس کی حرارت محض گل پلازہ کی عمارت تک محدود نہیں بلکہ اداروں، قوانین اور سیاست کے فولاد کو بھی نرم کر رہی ہے۔

آگ اگلے روز بھی نہ بجھی، تیسرے روز شعلے مدہم ہوئے مگر حرارت بڑھتی چلی گئی، اور ہر نئی تفصیل نے اس واقعے کو ایک سماجی بھٹی میں تبدیل کر دیا، جہاں دہائیوں کی غفلت، غیر قانونی تعمیرات، فائر سیفٹی کے فقدان، اور گورننس کی ناکامی ایک ساتھ دہک رہی تھیں۔

اس آگ کے بعد ملبے میں لاشوں کی بجائے انسانی باقیات کی برآمدگی، ٹوٹی ہوئی ہڈیاں اور دانت، اور ان باقیات کا اس حد تک جل جانا کہ ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنا قریباً ناممکن ہو جائے، اس حادثے کے حرارتی اثر کو انسانی سطح پر اس نہج تک لے گیا ہے جہاں سوگ محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ سائنسی اور قانونی المیہ بن چکا ہے، اور ورثا شناخت کے بنیادی حق سے بھی محروم دکھائی دیتے ہیں۔

یہ حرارت ہمیں دوبارہ اس سوال تک لے آئی ہے کہ غیر منصوبہ بند شہروں میں انسان کی جان کس حد تک قابلِ صرف ہے، اور ریاستی مشینری کس حد تک انسانی زندگی کو ایک قابلِ حساب متغیر سمجھ کر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسی حرارت نے 18ویں ترمیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، اور حالیہ سیاسی بیانیوں کو بھی ایک نئے تناظر میں گرم کر دیا ہے، کیونکہ جب حادثات ادارہ جاتی ناکامی کو بے نقاب کریں تو تعریفوں کے بخارات بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں اور سیاسی خطابات حرارتی مظاہر یا تھرمل فینومینا کی طرح محض گرم ہوا ثابت ہوتے ہیں۔

گل پلازہ کے متاثرین کی کہانیاں اس حادثے کی حرارت کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔  وہ نو عمر دلہن جو شادی سے قبل سامان لینے گئی تھی، وہ دولہا جو تحفہ لینے آیا تھا، وہ  خواتین جو گل پلازہ میں اپنے بچوں کیلئے شاپنگ کرتے کرتے کہیں لاپتہ ہوگئیں، وہ والدین جو بچے کی سالگرہ کا تحفہ لینے نکلے تھے، وہ فائر فائٹر جو دوسروں کی جان بچاتے بچاتے خود شہید ہوگیا اور وہ دکاندار جو تجارت کے ذریعے حلال رزق کمانے کیلئے گھر سے نکلتے تھے اور جب واپس لوٹے تو ہاتھوں میں راکھ کے سوا کچھ نہ تھا، یہ سب محض افراد نہیں بلکہ اس معاشرتی حرارت کے پیمانے ہیں جو ہمیں بتا رہے ہیں کہ حادثہ کس حد تک اجتماعی وجود کو جھلسا چکا ہے۔

غور کیجئے تو گل پلازہ کی آگ کی ظاہری حرارت ختم ہو چکی ہے، مگر راکھ، ملبہ، لوٹی گئی نقدی، اور ریاستی اہلکاروں کی ممکنہ ہوس کی حرارت ابھی سرد نہیں ہوئی، اور سیاسی جماعتوں کے بیانات اس حادثے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے آتش گیر مواد فراہم کر رہے ہیں، جس سے سیاسی درجۂ حرارت مزید بڑھ رہا ہے اور جن لواحقین کو اپنے پیاروں کی لاشیں تک نہ مل سکیں، ان کا غم و غصہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔

جب تک شہروں کی منصوبہ بندی، قانون کی عمل داری، اور گورننس کی اخلاقیات اس حرارت کو جذب کرنے کے قابل نہیں ہوں گی، گل پلازہ جیسے سانحات محض حادثات نہیں بلکہ ایک مستقل حرارتی نظام کا حصہ رہیں گے، جس میں انسان ایندھن اور نظام تماشائی بن کر رہ جائے گا۔

اگر ہمیں اس حرارتی سائیکل کو توڑنا ہے تو ہمیں حادثات کو محض خبروں کی حرارت نہیں بلکہ ریاستی تھرموڈائنامکس کی ناکامی سمجھ کر ان کی اصلاح کرنا ہوگی، ورنہ ہر نئی آگ ہمیں یہ یاد دلاتی رہے گی کہ ہم ایک ایسے شہر میں رہتے ہیں جہاں انسانی زندگی کا درجۂ حرارت ہمیشہ پگھلنے کے قریب ہوتا ہے اور سادہ الفاظ میں کہیے تو انسانی جان اتنی بے مول ہوگئی ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین کو 1 کروڑ دینے کے باوجود بھی اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں، کیونکہ جانے والے تو چلے گئے، اب وہ لوٹ کر آنے والے نہیں اور ہم اپنا سب کچھ دے کر بھی انہیں واپس نہیں لاسکتے اور یہ سانحہ جو گزر گیا ہے، گزر کر بھی نہیں گزرے گا کیونکہ جانے والوں کے لواحقین انہیں ہر سال ان کی برسی پر یاد کرتے اور آہیں بھرتے رہیں گے۔

Related Posts