بورڈ آف پیس میں شامل ہونا خطرناک ہوگا؟ مولانا فضل الرحمٰن کی پاکستان کو ہوشیار رہنے کی ہدایت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کو سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ٹرمپ نے خود واضح کر رکھا ہے کہ اس بورڈ کی قیادت مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں رہے گی جس سے عالمی امن کے عمل اور پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے غزہ کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال فلسطین میں بے گناہ شہریوں پر ہونے والے حملوں میں تقریباً 70,000 افراد شہید ہوئے جبکہ 100,000 سے زائد افراد بھوک اور بنیادی ضروریات کی کمی کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی مسلمان واقعی وہاں کے المیے کو سمجھتا بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا قیام پاکستان کے قیام کے ایک سال بعد ہوا اور اس کا آغاز 1917 کی بالفور ڈیکلریشن سے ہوا جو نو آبادیاتی نظام کے تسلسل کا حصہ ہے اور جس کے تحت فلسطینی زمین پر قابض ریاست قائم کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام سے پہلے لیگ آف نیشنز کی ایک کمیٹی نے یہ رپورٹ دی تھی کہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ پہلے سے بھرپور آبادی والے علاقے میں داخل ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود ایک منصوبہ بندی کے تحت فلسطینیوں کے خلاف اقدامات کیے گئے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے موجودہ اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اب بورڈ آف پیس تشکیل دے رہے ہیں اور اپنے من پسند ارکان کو اس میں شامل کرسکتے ہیں جو کہ امن کے نام پر ایک ذاتی سیاسی پلیٹ فارم ہے اور جس کا مقصد عالمی امن یا انصاف نہیں بلکہ ذاتی اور سیاسی مفادات ہیں۔

Related Posts