ٹرمپ نے عالمی امن کا بیڑا اٹھالیا؟ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی بورڈ آف پیس میں شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کرکے اس کی بنیاد رکھی۔ یہ بورڈ ابتدائی طور پر غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا تاہم اب اس کا دائرہ کار بڑھا کر عالمی استحکام اور تنازعات کے حل تک پھیلا دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے تقریب میں اعلان کیا کہ غزہ میں جاری جنگ حقیقتاً ختم ہو رہی ہے۔

بورڈ کے ایگزیکٹو ممبران؛

ٹرمپ کی سربراہی میں کام کرنے والے بورڈ کے کلیدی ارکان درج ذیل ہیں:

مارکو روبیو (امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ)

اسٹیو وٹکوف (امریکی اسپیشل ایلچی برائے مشرق وسطیٰ)

جیرڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد)

سر ٹونی بلیئر (برطانیہ کے سابق وزیراعظم)

مارک روئن (Apollo کے سی ای او)

اجے بنگا (ورلڈ بینک کے صدر)

رابرٹ گیبریل (سیکیورٹی ایڈوائزر)

ان ارکان کو سفارتکاری، تعمیر نو، سرمایہ کاری اور فنڈنگ جیسے مختلف شعبوں میں ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

دستخط کرنے والے ممالک اور نمائندے:

تقریب میں متعدد ممالک کے سربراہان اور وزراء نے شرکت کی اور دستخط کیے جن میں شامل ہیں؛

بحرین: عیسیٰ بن سلمان بن حمد آل خلیفہ

مراکش: ناصر بوریتا (وزیر خارجہ)

ارجنٹائن: صدر جاویر میلیئی

آرمینیا: وزیراعظم نکول پاشینیان

آذربائیجان: صدر الہام علیئی

بلغاریہ: وزیراعظم روزن ژیلیازکوف

ہنگری: وزیراعظم وکٹر اوربان

انڈونیشیا: صدر پرابوو سوبیانتو

اردن: ایمن الصفدی (وزیر خارجہ)

قازقستان: صدر قاسم جومرت توکائیف

کوسوو: صدر وجوسا عثمانی

پاکستان: وزیراعظم شہباز شریف

پیراگوئے: صدر سینٹیگو پینا

قطر: محمد بن عبدالرحمن آل ثانی

سعودی عرب: فیصل بن فرحان آل سعود (وزیر خارجہ)

ترکی: ہاکان فدان (وزیر خارجہ)

متحدہ عرب امارات: خلدون خلیفہ المبارک

ازبکستان: صدر شوکت میرضیائیف

منگولیا: وزیراعظم گومبوجاوین زنڈانشاتار

دیگر ذرائع کے مطابق مصر، کویت، ویت نام اور بیلاروس نے بھی شمولیت یا دعوت قبول کر لی ہے۔

غیر شریک ممالک:

مغربی ممالک جیسے کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، بیلجیئم، سویڈن، سلووینیا اور ناروے نے شرکت سے انکار کیا یا تاخیر کی۔ بعض نے روس کی ممکنہ شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اسرائیل کی نمائندگی تقریب میں موجود نہیں تھی تاہم وزیراعظم نیتن یاہو بعد میں شامل ہو سکتے ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ تقریب میں موجود نہیں تھے، البتہ ملاقات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دیگر اہم نکات:

فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے کہا کہ وہ بورڈ کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں لیکن فلسطینی اداروں کی مضبوطی بھی ضروری ہے۔

بعض رپورٹس کے مطابق مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی ادائیگی لازمی ہے۔

یہ اقدام اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم بعض ممالک کو خدشہ ہے کہ اس سے اقوام متحدہ کے کردار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

Related Posts